LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عمران خان کی ہسپتال منتقلی کے خلاف دوبارہ نظرثانی درخواست دائر پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن میٹریل کی خریداری کے اقدامات شروع وزیراعلیٰ مریم نواز نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا افتتاح کر دیا وزیراعظم کا گوگل ٹیم کے اعزاز میں استقبالیہ، اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کی ضمانت حکومت اپوزیشن ہاتھ ملائیں ایکدوسرے کے ساتھ ہاتھ نہ کریں: لیاقت بلوچ جو کچھ ہوا اس کی توقع نہیں تھی، بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال سے واپس منتقل کرنا بدقسمتی ہے: چیئرمین پی ٹی آئی ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے کیلئے سو مرتبہ جنگ کرنے کو تیار ہوں: ٹرمپ ملک بھر میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز عمران خان کا شفا ہسپتال میں تفصیلی معائنہ، صحت مند قرار، دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا: عطا تارڑ بلوچستان میں دشمن عناصر ریاست اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا چاہتے ہیں: فیلڈ مارشل پاکستان اور شام کا دفاعی شعبوں میں تعاون اور روابط بڑھانے پر اتفاق ایران کے خلاف امریکی پابندیاں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ عائشہ وہاب امریکی کانگریس کی پہلی افغان نژاد خاتون رکن منتخب

مولانا فضل الرحمان کی آزاد کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش

Web Desk

30 June 2026

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزاد کشمیر کی حالیہ کشیدہ صورتحال اور ایکشن کمیٹی کے دھرنے کے معاملے پر فریقین کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی باضابطہ پیشکش کر دی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کو خوش آمدید کہتے ہیں، کیونکہ قومی معاملات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے آزاد کشمیر ایکشن کمیٹی کے دھرنے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر بات چیت بالکل ممکن ہے اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ مہاجرین کی 12 نشستوں کا متنازع معاملہ بھی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈنڈے یا بندوق سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ سیاسی انداز میں ہی معاملات کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں بلاول بھٹو زرداری کی آمد کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

دوسری جانب، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی اس پیشکش سے فوری فائدہ اٹھائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی ایک مضبوط سیاسی قوت ہے اور وہ اہم سیاسی معاملات میں ہمیشہ مولانا فضل الرحمان کے تجربے سے تعاون حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور ان کی دلی خواہش ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل کا کوئی پائیدار اور پرامن حل نکالا جائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی دونوں کو عوامی اور سیاسی تحریکیں چلانے کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آزاد کشمیر میں جے یو آئی اور پی پی پی کے درمیان ایک نیا سیاسی اتحاد تشکیل پا رہا ہے، جبکہ دونوں جماعتیں ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی طرح کے سیاسی اتحاد قائم کرنے کی خواہش مند ہیں۔ انہوں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ آزاد کشمیر کے  انتخابات کا غیر متنازع اور شفاف ہونا انتہائی ضروری ہے اور تمام سیاسی قوتوں کو اس وقت آزاد کشمیر کے عوام کے بنیادی مسائل حل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔