LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ شرائط پوری ہونے تک مزید مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے: ایران بلوچستان کی سرحر پر افغان طالبان رجیم کے4 ڈرونز کو سیکیورٹی فورسز نے مار گرایا ئی اے ای اے کو ایرانی جوہری تنصیبات تک رسائی نہیں دی گئی، امریکہ مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنے وعدے پورے کرے: اسماعیل بقائی برطانیہ کا مزید 45 ہزار غیر قانونی مقیم افراد کو ملک بدر کرنے کا اعلان فیفا ورلڈ کپ: ناروے نے آئیوری کوسٹ کو شکست دے کر پری کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کر لیا کاہنہ حادثہ پر ایجوکیشن اتھارٹی کی رپورٹ تیار، ضلعی انتطامیہ کو ارسال پاکستان نے پہلی بار بین الاقوامی زیتون کونسل میں مستقل رکن کی حیثیت سے نشست سنبھال لی اسرائیلی حملے شام کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں: شامی صدر احمد الشرع ایرانی نائب وزیر خارجہ کل دوحہ میں قطری حکام سے اہم ملاقات کرینگے: ایران پیدائشی شہریت پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر ٹرمپ کی تنقید، کانگریس سے قانون سازی کا مطالبہ جنوبی لبنان میں بفر زون کا قیام اسرائیل کی اہم کامیابی ہے: نیتن یاہو بلوچستان میں امن کیلئے عوام، انتظامیہ اور سکیورٹی فورسز کا تعاون ناگزیر: سرفراز بگٹی دوحہ میں موجود امریکی وفد کی ایرانی حکام سے کوئی ملاقات طے نہیں: قطر ایل پی جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا امریکی سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ, پیدائشی شہریت کا حق برقرار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی حکم نامہ مسترد

یورپ کے بعد قیامت خیز گرمی کا رُخ امریکا کی جانب، وارننگ جاری

Web Desk

30 June 2026

دنیا کے مختلف خطوں میں شدید گرمی کی لہر نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، جہاں یورپ کے بعد اب امریکا بھی اس کی شدید لپیٹ میں آ گیا ہے۔

امریکی نیشنل ویدر سروس نے ملک کی وسطی اور مشرقی ریاستوں کے لیے ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ درجہ حرارت 38°C (ڈگری سینٹی گریڈ) تک پہنچ سکتا ہے۔ ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ گرمی کی یہ لہر کئی روز تک برقرار رہ سکتی ہے، جو شہریوں کی صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ حکام کے مطابق، امریکا میں شدید گرمی کو سب سے جان لیوا موسمی خطرات میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ اس شدید حدت کے باعث مغربی امریکا کے جنگلات میں ہولناک آگ لگنے کے خدشات بھی مہیب صورت اختیار کر گئے ہیں۔

دوسری جانب، یورپ میں جاری ہیٹ ویو پہلے ہی بڑے پیمانے پر تباہی مچا رہی ہے، جہاں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گرمی کی شدت کے باعث 1300 سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ اس وقت بھی فرانس، اسپین اور اٹلی سمیت کئی یورپی ممالک شدید ترین گرمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے باعث اب شدید گرمی کی لہریں پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تواتر اور شدت کے ساتھ آنے لگی ہیں، جس کے لیے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔