LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ کو جھوٹ بولنے کے اولمپک چیمپئن قرار دے دیا برطانوی ادارے کا پاکستان کے ٹرانسمیشن سیکٹر میں سرمایہ کاری میں اظہار دلچسپی وزیراعظم سے گیٹس فاؤنڈیشن کے وفد کی ملاقات، پولیو کے خاتمے، ڈیجیٹل ادائیگیوں پر گفتگو وزیر خزانہ سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اے سی سی اے گلوبل کی ملاقات، معاشی اصلاحات پر گفتگو قطر سے 81 ہزار 936 میٹرک ٹن ایل این جی لے کر جہاز پورٹ قاسم پہنچ گیا الجزائر کا متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ مشرقی چین میں مال بردار جہاز میں خوفناک آتشزدگی، 20 افراد ہلاک آزاد کشمیر کی ترقیاتی ترجیحات کا جائزہ، اسحاق ڈار کی عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت ایران نے 27 ایئرلائنز پر امریکی پابندیوں کو معاشی دہشت گردی قرار دے دیا سہیل آفریدی، مینا خان سمیت 4 ملزموں کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی آنکھوں کے امراض کی بروقت تشخیص سے بینائی کے نقصان سے بچا جا سکتا ہے: گورنر سندھ لوڈشیڈنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 15 ستمبر کو جواب طلب کرلیا پی ٹی آئی کے 27 ستمبر احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست: اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بنچ میں اہم سماعت وزیراعظم کی زیرِ صدارت اجلاس میں نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بڑی مراعات کی منظوری

دوحہ میں ایران سے ملاقات شاید اہم ہو، شاید نہ ہو: ڈونلڈ ٹرمپ

Web Desk

30 June 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات پر مصلحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر میں ہونے والی یہ ملاقات شاید اہم ہو، اور شاید نہ ہو، لیکن اس کا تزویراتی نتیجہ جلد ہی سب کے سامنے آ جائے گا۔

واشنگٹن میں اپنی صدارتی رہائش گاہ ‘وائٹ ہاؤس’ (White House) میں صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے تصدیق کی کہ ایران کے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے (Denuclearization) کے تزویراتی ایجنڈے پر مروجہ اجلاس دوحہ میں منعقد ہوگا، لہٰذا ہم باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں کہ یہ معاملہ کس طرف جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سفارتی محاذ پر پیش رفت کا احاطہ کرتے ہوئے ایک طرف تو یہ دعویٰ کیا کہ ہم اس معاملے پر بہت اچھی پیش رفت کر رہے ہیں، تاہم ساتھ ہی روایتی محتاط انداز اپناتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں ہونے والی ملاقات کی حتمی اہمیت کا اندازہ وقت ہی لگائے گا۔ صحافیوں سے گفتگو میں ان کے اہم تزویراتی نکات درج ذیل تھے:

  • عسکری برتری کا دعویٰ: “عسکری طور پر ہم جیت رہے ہیں، بلکہ میں تو کہوں گا عسکری طور پر ہم جیت چکے ہیں، یہ ایک سادہ سی بات ہے۔”

  • جوہری عدم پھیلاؤ کا عزم: “ہم کسی صورت نہیں چاہتے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، اور ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔”

  • ایرانی آمادگی کا اشارہ: “اگر انصاف کے ساتھ دیکھا جائے تو وہ (ایرانی حکام) اب اس مروجہ شرط پر رضا مند بھی ہو چکے ہیں۔”

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں طے شدہ اس ٹیکنیکل سیشن کے حوالے سے گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران دونوں ممالک کی مروجہ قیادت کی جانب سے شدید متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ (Truth Social) پر پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے خود ایک ملاقات کی درخواست کی ہے، جو دوحہ میں ہوگی۔

دوسری جانب، ایران کی تکنیکی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کاظم غریب آبادی اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس ملاقات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ آئندہ چند روز میں کسی بھی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی باقاعدہ ملاقات طے نہیں ہے۔

اس تزویراتی ابہام کے باوجود وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ (Karoline Leavitt) نے امریکی نشریاتی ادارے ‘فاکس نیوز’ کو ہائی لیول بریکنگ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکہ کے نامزد خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر اس ہفتے کے اعلیٰ سطح کے تزویراتی اجلاسوں میں شرکت کے لیے باقاعدہ دوحہ پہنچ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پسِ پردہ مروجہ سفارت کاری انتہائی تیز ہو چکی ہے۔