LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا نے زلزلے سے متاثر وینزویلا پر سے پابندیاں اُٹھالیں عمران خان کو 22 اور بشریٰ بی بی کو 24 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا ہے، علیمہ خان امریکی پاسپورٹ کے اعزازی ڈیزائن پر ٹرمپ کی تصویر توجہ کا مرکز بن گئی 18 سال سے کم عمر کی شادی کیخلاف قانون فیڈرل شریعت کورٹ میں چیلنج سکیورٹی فورسز کی خاران اور مستونگ میں کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز پر چار بار حملہ کیا، یہ اقدام پسند نہیں آیا: ٹرمپ پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا ایران کا امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر فیس ادا کرنی ہو گی: بلومبرگ کا دعویٰ

برسلز پر یورپی اراکینِ پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا شدید احتجاج

Web Desk

27 June 2026

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں افغان طالبان کے وفد کی یورپی یونین کے حکام سے ملاقات پر یورپی اراکینِ پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سراپا احتجاج بن گئی ہیں۔ یورپی پارلیمنٹ کی رکن ہنّا نوئیمان نے یورپی کمیشن کو افغان طالبان کی میزبانی اور ان سے مذاکرات کرنے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری اپنے ایک بیان میں ہنّا نوئیمان نے کہا کہ افغان طالبان یورپی یونین کے ساتھ کسی قسم کی تکنیکی گفتگو کے خواہاں نہیں ہیں، بلکہ وہ اس موقع کو اپنی سیاسی حیثیت کو تسلیم کروانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب، یورپی پارلیمنٹ کی افغان کمیٹی کی سربراہ روشیل گارشیا نے یورپی کمیشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ 45 کروڑ یورپی شہریوں کی طرف سے افغان عوام سے معذرت خواہ ہیں کہ وہ نام نہاد مذاکرات کے اس پاگل پن کو روکنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس نوعیت کے مذاکرات غاصب افغان رجیم کو عالمی سطح پر قبولیت فراہم کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں، ‘انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائٹس’ نے بیلجیئم کے وفاقی پراسیکیوٹر سے باضابطہ رجوع کرتے ہوئے یورپی سرزمین پر موجود افغان طالبان کے وفد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تنظیم کے صدر ایلیکسیس ڈیسویف کے مطابق، یورپی یونین کی سرزمین پر افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا ایک غاصب حکومت کو سیاسی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

بین الاقوامی جریدے ‘الجزیرہ’ کو دیے گئے ایک بیان میں ‘ہیومن رائٹس واچ’ کی محقق فرشتہ عباسی نے کہا کہ یورپی یونین ایک طرف تو افغان طالبان کے مظالم کی مذمت کرتی ہے، لیکن دوسری طرف ان سے روابط رکھ کر اپنی ساکھ کو خود داغدار کر رہی ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ برسلز میں مذاکرات کے بجائے افغان طالبان کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غاصب افغان رجیم کو ایسی سفارتی رعایتیں دینے کا خمیازہ عالمی برادری کو مستقبل میں دہشت گردی، منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔