حزب اللہ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان معاہدے کو غلطی قرار دیدیا
Web Desk
27 June 2026
حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے لبنانی رکنِ پارلیمنٹ امین شیری نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے معاہدے کو ایک بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے تل ابیب کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی سخت مخالفت کی ہے۔
امین شیری نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے براہ راست مذاکرات کا فیصلہ سراسر غلط ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیل اب میز پر بیٹھ کر وہ کچھ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو وہ ماضی کی دو جنگوں میں میدانِ جنگ کے اندر حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل اب لبنان کے اندرونی اختلافات کو ہوا دے کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ رکنِ پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ اسرائیل اس معاہدے کے ذریعے لبنان کو مزید رعایتیں دینے کی طرف دھکیل رہا ہے، جبکہ ان کے مطابق لبنان کی جانب سے دریائے لیطانی کے جنوب میں لبنانی فوج کی تعیناتی پر اتفاق دراصل اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کو یقینی بنانے کے مترادف ہے۔
متعلقہ عنوانات
اسحاق ڈار کا عباس عراقچی سے رابطہ، امن و استحکام کے عزم کا اعادہ
27 June 2026
روس اور پاکستان کے درمیان سفارتی رابطہ، خلیج فارس کی صورتحال پر تبادلہ خیال
27 June 2026
مودی کی انتہاپسندانہ پالیسیوں نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
27 June 2026
روس کی مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف
27 June 2026
برسلز پر یورپی اراکینِ پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا شدید احتجاج
27 June 2026
لبنانی صدر نے معاہدے کو ملکی خود مختاری کی بحالی کی جانب پہلا قدم قرار دیدیا
27 June 2026
معاہدے کا مقصد اسرائیلی افواج کا تمام لبنانی علاقوں سے انخلا یقینی بنانا ہے: لبنانی وزیراعظم
27 June 2026
امریکا، خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ بحری نقل و حرکت ناگزیر قرار دیدی
27 June 2026