LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار مصر پہنچ گئے، علاقائی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کریں گے امریکا ایران مذاکرات کل شروع ہونے کا امکان، صورتحال بہتر ہونے کا دعویٰ محسن نقوی کی ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، امریکا سے معاہدے کی صورتحال پر گفتگو گھروں پر ٹاور لگانے والا بل جاہلانہ اور غاضبانہ ہے: حافظ نعیم الرحمان پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے درمیان 70 کروڑ ڈالر کے قرض پروگرام پر دستخط رانا ثنااللہ نے وزیراعظم کی تبدیلی بارے خبریں بے بنیاد قرار دے دیں ڈیمو کریٹس کو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے ایران جنگ میں کتنی بڑی کامیابی حاصل کی:ٹرمپ بھارت کی آزاد کشمیر میں امن تباہ کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی: خواجہ آصف 9 مئی سانحہ:ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت دیگر کو 10،10 سال قید، شاہ محمود قریشی بری ریاست کے خلاف اکسانے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی: کشمیری قیادت 407 کھرب 41 ارب روپے کے لازمی اخراجات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش وزیرخارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار قاہرہ روانہ بجٹ میں سمت واضح کردی، معاشی شرح نمو بڑھے گی، ریلیف ملے گا: وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث مکمل، 232 ارکان نے حصہ لیا پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیادوں پر 15.28 فیصد اضافہ

407 کھرب 41 ارب روپے کے لازمی اخراجات کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

Web Desk

20 June 2026

ملک پر موجود قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی حکومت کی اولین مالیاتی ترجیح ہے، جس کے تحت ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 259 کھرب 92 ارب 20 کروڑ روپے سے زائد کی بھاری رقم مختص کی گئی ہے۔ مزید برآں، ملکی قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 69 کھرب 82 ارب روپے سے زائد، جبکہ غیر ملکی قرضوں کی اصل رقم کی ادائیگی کے لیے 58 کھرب 36 ارب روپے سے زائد رقم رکھی گئی ہے۔ غیر ملکی قرضوں پر واجب الادا سود کی ادائیگی کے لیے 10 کھرب 71 ارب 39 کروڑ روپے سے زائد، اور قلیل مدتی بیرونی قرضوں کو اتارنے کے لیے ایک کھرب 30 ارب روپے سے زائد کے فنڈز کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

عدالتی نظام اور آئینی اداروں کے بجٹ کی تفصیلات کے مطابق، ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ‘سپریم کورٹ’ کے لیے 7 ارب 44 کروڑ روپے جاری کیے جائیں گے، وفاقی آئینی عدالت کے لیے 6 ارب 4 کروڑ روپے سے زائد، اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے روزمرہ کے اخراجات کے لیے 2 ارب 36 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، آڈٹ کے شعبے کے لیے 9 ارب 82 کروڑ روپے سے زائد، وفاقی محتسب کے لیے 2 ارب 12 کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد، اور وفاقی ٹیکس محتسب کے دفتری و انتظامی اخراجات کے لیے 64 کروڑ 55 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ ملک میں انتخابی عمل کو یقینی بنانے کے لیے الیکشن کے مدمیں 10 ارب 57 کروڑ 75 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

دیگر اہم آئینی و سفارتی اخراجات کے پورٹ فولیو میں قانون ساز اداروں کا بجٹ بھی شامل ہے، جس کے تحت قومی اسمبلی کے لیے 7 ارب 96 کروڑ روپے جبکہ سینیٹ آف پاکستان کے لیے 6 ارب 42 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، الاؤنسز، کہن سالی اور پنشن کی ادائیگیوں کے لیے 6 ارب 93 کروڑ روپے، مختلف گرانٹس اور متفرق اخراجات کے لیے 57 ارب روپے، بیرونِ ملک قائم فارن مشنز کے لیے 50 کروڑ روپے، اور شعبہ قانون و انصاف کے لیے 53 کروڑ 94 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ صدرِ مملکت کے پبلک آفس کے ملازمین کے الاؤنسز کی ادائیگیوں کے لیے بھی 96 کروڑ 37 لاکھ روپے کی رقم بجٹ کا حصہ بنائی گئی ہے۔