LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں 21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام؛ پروفیسر ڈاکٹر ہما بقائی کی طلبہ کیساتھ نشست محمود اچکزئی دہشت گردوں کا نام نہ لے کر غلط بیانی کر رہے ہیں: وزیر داخلہ بلوچستان پنجاب میں موسمِ گرما کی تعطیلات ختم، تعلیمی ادارے دوبارہ کھل گئے ایران جنگ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان ثابت ہوئی، برطانوی اخبار پرشین گلف سٹریٹ اتھارٹی کا ایرانی ضوابط توڑنے والے بحری جہازوں کو انتباہ گنی میں لینڈ فل سائٹ پر مٹی کا تودہ گرنے سے 30 افراد ہلاک جنگ کے دوران انتخابات سے یوکرین تباہ، عوام تقسیم ہو جائے گی: زیلنسکی

پنجاب میں ذاتی جہاز کے لیے پیسے ہیں بنیادی ضروریات کے لیے نہیں ہیں,شہریار آفریدی

Web Desk

18 June 2026

قومی اسمبلی کے اہم اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے سینیئر رہنما اور اپوزیشن رکن شہریار آفریدی نے بجٹ، ملک کی موجودہ تزویراتی صورتحال اور صوبوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافیوں پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک انتہائی سخت اور دھواں دھار خطاب کیا ہے۔ انہوں نے ایوان کی اہمیت، بیوروکریسی کے اثر و رسوخ اور وفاق کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ “بابوؤں (بیوروکریٹس) کے بنائے ہوئے ستر فیصد بجٹ پر یہ ایوان کسی صورت ووٹ نہیں کر سکتا۔” ان کا کہنا تھا کہ ظلم اور ڈنڈا ایک حد تک ہی چل سکتا ہے، اس سے آگے نہیں۔

اپوزیشن رکن نے معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے (IMF) اور ورلڈ بینک کے جتنے بھی حالیہ سروے سامنے آئے ہیں، وہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ موجودہ حکمران معاشی محاذ پر بری طرح ناکام ہو چکے ہیں اور ملک کو بحران کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

شہریار آفریدی نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ “آج کیا وجہ ہے کہ بلوچستان کے لوگ اتنے مایوس ہیں؟ کیا وجہ ہے کہ وہاں کی ماؤں اور بہنوں نے بندوق اٹھا لی ہے؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکمران حکومت کرنے کے بجائے بلوچ ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کے پاس جائیں اور ان کے زخموں پر مرہم رکھیں۔ انہوں نے سندھ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سندھ کے معصوم لوگ آزمائشوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، وہاں حالت یہ ہے کہ ہسپتالوں میں پاگل کتے کے کاٹنے کی بنیادی ویکسین تک دستیاب نہیں ملتی۔پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں حکمرانوں کے ذاتی جہاز خریدنے کے لیے تو خطیر پیسے موجود ہیں، لیکن عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فنڈز نہیں ہیں۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ خیبرپختونخوا کے عوام بنیادی ضروریات کے لیے جائیں تو آخر کہاں جائیں؟ پختونوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور میڈیا یا ڈراموں میں دہشت گردوں کا حلیہ پختونوں جیسا دکھایا جاتا ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ مزید یہ کہ خیبرپختونخوا کے جوان بچے اگر مری یا کراچی جائیں تو ان سے الگ فارم مانگ کر انہیں مشکوک بنایا جاتا ہے۔

شہریار آفریدی نے تزویراتی امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب دیکھ رہے ہیں کہ گلگت بلتستان اور کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔ گلگت میں عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی، وہاں سے آزاد ارکانِ اسمبلی کو زبردستی اٹھا کر کسی اور کی جھولی میں بٹھا دیا گیا، اگر یہی کچھ کرنا ہے تو پھر ملک میں الیکشن کروانے کا ڈھونگ کیوں رچایا جاتا ہے؟

اپوزیشن رہنما نے اپنے سیاسی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سپاہی ہر قسم کے ظلم، جبر اور فسطائیت کے باوجود نہ کبھی جھکے ہیں اور نہ ہی بکے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا کہ آپ ملک کے مسکینوں اور غریبوں کو لوٹ رہے ہیں اور اپنے ہی گھر کے خدمت گزاروں کا استحصال کر رہے ہیں، لیکن یاد رکھیں کہ ہمیں صرف رب کا خوف ہے اور یہ پاکستان ہمارا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ کٹھ پتلی پالیسیوں کی وجہ سے یہ ایوان اپنی تزویراتی اہمیت اور عوامی اعتماد پوری طرح کھو چکا ہے۔