حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ
Web Desk
17 June 2026
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے معاشی ٹیم کے ہمراہ اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کے فعال افراد اور انفلوئنسرز کو سالانہ بجٹ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دینا انتہائی ضروری تھا تاکہ حکومتی معاشی اقدامات، تزویراتی فیصلوں اور بجٹ کی اصل ترجیحات کو درست اور مثبت انداز میں عوام تک پہنچایا جا سکے۔
ماضی کے معاشی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ملک کی معاشی حالت انتہائی دگرگوں تھی، برآمد کنندگان کی ایل سیز (LCs) نہیں کھل رہی تھیں اور اسٹیٹ بینک کی شرح سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے انتہائی مشکل اور مخدوش حالات میں مسلم لیگ (ن) کی مخلص قیادت نے ملکی معیشت کو سہارا دیا، اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ملک کو آئی ایم ایف (IMF) کے چنگل سے ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہی نجات دلائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی ذاتی اور انتھک کوششوں سے آئی ایم ایف کے ساتھ تعطل کا شکار معاملات کو کامیابی سے طے کیا، اور انہی حکومتی کاوشوں کی بدولت آج ملک میں بہترین معاشی استحکام نظر آ رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ 2 سال کے دوران ہم نے معیشت کی بقا کے لیے انتہائی مشکل اور کڑوے فیصلے کیے، لیکن اب اللّہ کے فضل سے ہم اس پوزیشن میں آ چکے ہیں کہ عوام کو براہِ راست ریلیف دے سکیں۔
وزیر اطلاعات نے ٹیکس اصلاحات اور شفافیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ٹیکس نہ دینے والے نان فائلرز کا بوجھ پہلے سے ٹیکس دینے والے ایماندار شہریوں پر بالکل نہیں ڈالا۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی پورٹس، انکم ٹیکس اور ایف بی آر (FBR) جیسے بڑے اداروں میں کرپشن اور ٹیکس چوری کی روک تھام کو سختی سے یقینی بنایا گیا ہے۔ اسی تزویراتی حکمتِ عملی کے تحت بااثر شوگر ملوں سے 60 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کیا گیا، جبکہ انفورسمنٹ اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے ذریعے گزشتہ ایک سال کے دوران ریکارڈ 800 ارب روپے قومی خزانے میں اکٹھے کیے گئے۔
عوام اور تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 50 ہزار روپے سے کم ماہانہ تنخواہ والے غریب طبقے کو ٹیکس سے مکمل طور پر مستثنیٰ کر دیا گیا ہے، جبکہ 50 ہزار سے لے کر ایک لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والا متوسط طبقہ اب صرف 1 فیصد معمولی ٹیکس ادا کرے گا۔
عطا تارڑ نے حکومتی ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے “اپنا گھر منصوبہ” کے لیے مختص 90 ارب روپے میں سے 11 ارب روپے کی رقم حقدار لوگوں کو فراہم کر دی گئی ہے۔ ہاؤسنگ اور کنسٹرکشن کے شعبے میں اس انقلابی ترقی سے ملک کی دیگر 12 بڑی صنعتوں کا پہیہ بھی تیزی سے چل پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارا ایکسپورٹر زیادہ منافع کمائے گا تو ملک میں نئی صنعتوں کے قیام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بڑی مدد ملے گی۔
انہوں نے ٹیکس نیٹ کو جدید بنانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب شگر ملز سے نکلنے والی ہر بوری پر باقاعدہ ٹریکنگ بارکوڈ لگا ہوتا ہے تاکہ چوری کا امکان ختم ہو سکے۔ اس کے علاوہ ٹیکس وصولی اور دیگر تجارتی تنازعات کے فوری و شفاف حل کے لیے ملک میں نئے ٹیکنیکل ٹربیونلز قائم کر دیے گئے ہیں۔ حکومت نے عام آدمی کی سہولت کے لیے 5 مرلے کا پلاٹ یا گھر خریدنے اور بیچنے والے شہریوں کے لیے ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی ہے، جبکہ ملکی آئی ٹی (IT) کمپنیوں کو بھی خصوصی ٹیکس رعایتیں دی گئی ہیں تاکہ وہ اپنے بین الاقوامی معاملات اور برآمدات کو مزید بہتر بنا سکیں۔
اس اہم موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے پُرعزم انداز میں کہا کہ یہ بجٹ ملکی صنعتکاروں، برآمد کنندگان، خواتین اور نوجوانوں کے لیے ایک بہترین ریلیف بجٹ ہے۔ انہوں نے بجٹ کے اہم ترین معاشی اعداد و شمار شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم یوتھ پیکیج کے تحت نوجوانوں کو آسان شرائط پر زرعی قرضوں کی فراہمی کے لیے 110 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جبکہ غریب ترین طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے بجٹ کو بڑھا کر ریکارڈ 838 ارب روپے رکھ دیا گیا ہے۔
بلال اظہر کیانی نے پریس کانفرنس کے آخر میں واضح کیا کہ موجودہ حکومت پائیدار اور طویل المدتی بنیادوں پر ملکی معاشی استحکام کو برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ یہ بجٹ جہاں ایک طرف ٹیکس نیٹ کو کامیابی سے وسعت دینے کے اصول پر تیار کیا گیا ہے، وہیں دوسری طرف اس میں کاروباری اور تاجر طبقے کے لیے کاروبار میں آسانیاں اور سہولتیں فراہم کی گئی ہیں، جس کے تحت مختلف درآمدی خام مال پر سے 5 ارب روپے کی کسٹم ڈیوٹی یکسر ختم کر کے انڈسٹری کو بڑا ریلیف دیا گیا ہے۔
متعلقہ عنوانات
سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی
17 June 2026
انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل،
17 June 2026
خواجہ آصف بتائیں آٹھ فروری 2024کا الیکشن کیا ان کے ضمیر پر بوجھ نہیں ؟
17 June 2026
پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور
17 June 2026
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات
17 June 2026
محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق
17 June 2026
پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے
17 June 2026
سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی
17 June 2026