LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے جاں بحق بچی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آگئی انسدادِ دہشت گردی عدالت: علیمہ خان احتجاج کیس میں محسن نقوی اور عطا تارڑ کو طلب کرنے کی درخواست پر دلائل مکمل، پارٹی میں دھڑے بندی نہیں لیکن کچھ لوگوں کے اختلافات ہیں,علی امین گنڈاپور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات محسن نقوی سے برطانوی نائب وزیر خارجہ کی ملاقات، انسداد دہشتگردی تعاون پر اتفاق پاکستان ریلوے کی 15 ٹرینوں کی آؤٹ سورسنگ، 5 کے ٹھیکے دیے جا سکے سندھ کابینہ نے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی منظوری دے دی پاکستان کا 30 ایرانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کرنے کا اعلان حکومت نے معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر گامزن کیا، عطا تارڑ بلوچستان گرینڈ الائنس کا مطالبات کے حق میں اسمبلی کے باہر دھرنے کا اعلان امریکا کا اسرائیل کو ایران معاہدے کی تفصیلات دینے سے انکار صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع ایران اور امریکا کے درمیان تاریخی معاہدے پر دستخط کا مقام تبدیل ایران نے امریکہ کو اپنی شرائط پر مذاکرات کی ٹیبل پر آنے پر مجبور کیا، ابراہیم عزیزی سندھ اور بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا

خواجہ آصف بتائیں آٹھ فروری 2024کا الیکشن کیا ان کے ضمیر پر بوجھ نہیں ؟

Web Desk

17 June 2026

قومی اسمبلی کے اہم بجٹ اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کے سابق سپیکر اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے گزشتہ روز کے بیانات پر کڑا اور تفصیلی جواب دیا ہے۔

خواجہ آصف کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی حقیقت واضح کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ خواجہ آصف نے کل ایوان میں یہ دعویٰ کیا کہ میرے گھر پر آئی ایس آئی (ISI) حکام کے ساتھ خفیہ میٹنگز ہوتی رہیں۔ انہوں نے حقائق درست کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ میرا کوئی ذاتی گھر نہیں تھا بلکہ سپیکر قومی اسمبلی کی سرکاری رہائش گاہ تھی جہاں تمام ملاقاتیں ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک کو درپیش تزویراتی چیلنجز کے تناظر میں، میں بطور سپیکر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کے اہم بلز پر اس وقت کی حکومت اور اپوزیشن کے مابین صرف ایک آئینی سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا تھا۔ اس عمل کے دوران آئی ایس آئی کے اعلیٰ افسران اینٹی منی لانڈرنگ اور ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ انتہائی حساس قانونی بلز پر خالصتاً اپنی ٹیکنیکل ان پٹ دے رہے تھے تاکہ ملک کو گرے لسٹ سے نکالا جا سکے، اور یہ کوئی خفیہ سیاسی ملاقاتیں نہیں تھیں۔

خواجہ آصف کے ‘ضمیر پر بوجھ’ والے بیان کا شدید تمسخر اڑاتے ہوئے اسد قیصر نے براہِ راست سوال داغ دیا کہ خواجہ آصف بتائیں کیا 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں ہونے والی بدترین دھاندلی ان کے ضمیر پر بوجھ نہیں ہے؟ انہوں نے چیلنجنگ انداز میں کہا کہ کیا پورا ملک نہیں جانتا کہ وہ سیالکوٹ سے پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ امیدوار ریحانہ ڈار سے بہت بڑی لیڈ کے ساتھ بری طرح ہار چکے تھے؟

سابق سپیکر نے مطالبہ کیا کہ اگر خواجہ آصف واقعی سچے ہیں اور ان کے ضمیر پر کوئی بوجھ ہے، تو وہ فوری طور پر فارم 47 کے ذریعے چوری کی گئی اس جعلی سیٹ سے استعفیٰ دیں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ خواجہ آصف اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے میدان میں آئیں اور سیالکوٹ کے اسی حلقے سے دوبارہ محترمہ ریحانہ ڈار کے خلاف شفاف الیکشن لڑ کر اپنی عوامی مقبولیت دیکھ لیں۔