LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف معاشی جنگ سے امریکا کو کوئی کامیابی نہیں ملے گی، سابق امریکی وزیر دفاع برطانیہ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 2 پولیس اہلکاروں سمیت 7 افراد ہلاک مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کیلئے سٹریٹجک وسعت و علاقائی توازن کا ذریعہ قرار امریکی عدالت نے ڈونلڈ ٹرمپ کا 75 ممالک پر عائد ویزا پابندی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا امریکا کی معاشی جنگ میں مدد کرنے والے ممالک کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے، محسن رضائی روس کے یوکرین پر جوابی حملے زیادہ تکلیف دہ اور تباہ کن ہیں، صدر پوتن تجارتی مذاکرات ناکام، کینیڈا کا بھی امریکا پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا حکم، اسلام آباد انتظامیہ نے نظرثانی اپیل کی جلد سماعت کی درخواست دائر کر دی جنگ کے دوران ایران کی دفاعی پیداوار میں دوگنا اضافہ ہوا، ایرانی وزارت دفاع ایرانی بسیج کمانڈر حسین طائب کا امریکا کی ایران مخالف پالیسی میں تبدیلی کا دعویٰ دمشق کے جنوب میں اسرائیلی ڈرون حملہ، شامی حکومت کی شدید مذمت یوکرین کے ڈرون حملے، روس کے زیر انتظام علاقوں میں 10 افراد ہلاک وزیراعظم کی ہدایت پر پاکستان ریلویز کا مزید دو ٹرینیں بحال کرنے کا اعلان خطے میں امن کیلئے مقامی اور آزاد علاقائی سکیورٹی نظام ناگزیر ہے: ایرانی سپیکر پوتن کا آئندہ پارلیمانی انتخابات پر اعتماد، ملک کے استحکام اور سیاسی نظام کی پختگی کا اظہار

پی سی بی کا کرکٹرز کے سینٹرل کانٹریکٹس میں انقلابی تبدیلیوں کا اعلان

Web Desk

15 June 2026

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کھلاڑیوں کے سینٹرل کانٹریکٹس کے پرانے ڈھانچے کو یکسر تبدیل کرتے ہوئے ایک نیا اور منفرد فارمیٹ بیسڈ اسٹرکچر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد ہر فارمیٹ کی الگ شناخت برقرار رکھنا اور کھلاڑیوں کے ساتھ انصاف کرنا ہے۔ چیئرمین محسن نقوی کی زیر نگرانی تیار کردہ یہ ماڈل دنیا کے روایتی سسٹمز کے برعکس ‘ایک ہی نظام سب کے لیے’ کی پالیسی کو ترک کرتا ہے اور جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ مختصر فارمیٹس کے ماہرین کو واضح راستے فراہم کرتا ہے۔ اس نئے فریم ورک کے تحت ہر کھلاڑی کو ایک مخصوص فارمیٹ پاتھ وے (ریڈ بال یا وائٹ بال) سے منسلک کیا جائے گا، جو اس کی ذمہ داریوں اور مراعات کا تعین کرے گا۔

پہلے سے رائج اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز کے معاوضاتی نظام کو ختم کر کے اب پانچ خصوصی فارمیٹ ٹریکس بنائے گئے ہیں۔ ان میں “ٹریک اے بی” پرائم کیٹیگری ہوگی جس میں ٹیسٹ اور ون ڈے کے بنیادی کھلاڑی شامل ہوں گے، جبکہ “ٹریک اے” کو خالصتاً ریڈ بال (ٹیسٹ) اسپیشلسٹس کے تحفظ اور فروغ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ محدود اوورز کے ماہرین کے لیے “ٹریک بی سی” (ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل) بنایا گیا ہے، جبکہ مختصر ترین فارمیٹ کے کھلاڑیوں کے لیے “ٹریک ڈی” متعارف کرایا گیا ہے جہاں انہیں قومی ذمہ داریوں کے ساتھ فرنچائز کرکٹ کھیلنے کی زیادہ آزادی ہوگی۔ ان تمام ٹریکس میں کھلاڑیوں کا موازنہ صرف ان کے اپنے گروپ سے ہوگا اور کارکردگی کی بنیاد پر داخلی درجات میں ترقی یا تنزلی ممکن ہوگی، تاہم بورڈ ان معاہدوں کی تعداد کو خفیہ رکھے گا۔

اس نئے نظام کے تحت ٹیسٹ کرکٹرز کے لیے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے انہیں دنیا کی بڑی فرسٹ کلاس ریڈ بال لیگز میں کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ وہ کٹھن ماحول میں تجربہ حاصل کر سکیں، البتہ ان کے لیے فرنچائز ٹی ٹوئنٹی لیگز پر پابندی برقرار رہے گی۔ پی سی بی نے یہ تبدیلیاں پرانے نظام کی ان خامیاں کو دور کرنے کے لیے کی ہیں جہاں مختصر فارمیٹ کے کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹرز پر سبقت لے جاتے تھے یا ٹیسٹ اسپیشلسٹس کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع محدود تھے۔ اب نئے نظام کے تحت سینٹرل کانٹریکٹ کی اہلیت کے لیے کھلاڑیوں کو تین سخت مراحل یعنی جامع میڈیکل و فٹنس ٹیسٹ، ڈومیسٹک کرکٹ میں لازمی شرکت اور کارکردگی کے باریک بینی سے جائزے سے گزرنا ہوگا۔ یہ جوابدہی اور شفافیت پر مبنی فریم ورک کانٹریکٹ سائیکل 2026 سے مکمل طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔