پی سی بی کا کرکٹرز کے سینٹرل کانٹریکٹس میں انقلابی تبدیلیوں کا اعلان
Web Desk
15 June 2026
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے کھلاڑیوں کے سینٹرل کانٹریکٹس کے پرانے ڈھانچے کو یکسر تبدیل کرتے ہوئے ایک نیا اور منفرد فارمیٹ بیسڈ اسٹرکچر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد ہر فارمیٹ کی الگ شناخت برقرار رکھنا اور کھلاڑیوں کے ساتھ انصاف کرنا ہے۔ چیئرمین محسن نقوی کی زیر نگرانی تیار کردہ یہ ماڈل دنیا کے روایتی سسٹمز کے برعکس ‘ایک ہی نظام سب کے لیے’ کی پالیسی کو ترک کرتا ہے اور جدید کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ مختصر فارمیٹس کے ماہرین کو واضح راستے فراہم کرتا ہے۔ اس نئے فریم ورک کے تحت ہر کھلاڑی کو ایک مخصوص فارمیٹ پاتھ وے (ریڈ بال یا وائٹ بال) سے منسلک کیا جائے گا، جو اس کی ذمہ داریوں اور مراعات کا تعین کرے گا۔
پہلے سے رائج اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگریز کے معاوضاتی نظام کو ختم کر کے اب پانچ خصوصی فارمیٹ ٹریکس بنائے گئے ہیں۔ ان میں “ٹریک اے بی” پرائم کیٹیگری ہوگی جس میں ٹیسٹ اور ون ڈے کے بنیادی کھلاڑی شامل ہوں گے، جبکہ “ٹریک اے” کو خالصتاً ریڈ بال (ٹیسٹ) اسپیشلسٹس کے تحفظ اور فروغ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ محدود اوورز کے ماہرین کے لیے “ٹریک بی سی” (ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل) بنایا گیا ہے، جبکہ مختصر ترین فارمیٹ کے کھلاڑیوں کے لیے “ٹریک ڈی” متعارف کرایا گیا ہے جہاں انہیں قومی ذمہ داریوں کے ساتھ فرنچائز کرکٹ کھیلنے کی زیادہ آزادی ہوگی۔ ان تمام ٹریکس میں کھلاڑیوں کا موازنہ صرف ان کے اپنے گروپ سے ہوگا اور کارکردگی کی بنیاد پر داخلی درجات میں ترقی یا تنزلی ممکن ہوگی، تاہم بورڈ ان معاہدوں کی تعداد کو خفیہ رکھے گا۔
اس نئے نظام کے تحت ٹیسٹ کرکٹرز کے لیے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے انہیں دنیا کی بڑی فرسٹ کلاس ریڈ بال لیگز میں کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ وہ کٹھن ماحول میں تجربہ حاصل کر سکیں، البتہ ان کے لیے فرنچائز ٹی ٹوئنٹی لیگز پر پابندی برقرار رہے گی۔ پی سی بی نے یہ تبدیلیاں پرانے نظام کی ان خامیاں کو دور کرنے کے لیے کی ہیں جہاں مختصر فارمیٹ کے کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹرز پر سبقت لے جاتے تھے یا ٹیسٹ اسپیشلسٹس کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع محدود تھے۔ اب نئے نظام کے تحت سینٹرل کانٹریکٹ کی اہلیت کے لیے کھلاڑیوں کو تین سخت مراحل یعنی جامع میڈیکل و فٹنس ٹیسٹ، ڈومیسٹک کرکٹ میں لازمی شرکت اور کارکردگی کے باریک بینی سے جائزے سے گزرنا ہوگا۔ یہ جوابدہی اور شفافیت پر مبنی فریم ورک کانٹریکٹ سائیکل 2026 سے مکمل طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔
متعلقہ عنوانات
النصر کی مسلسل دوسری فتح، آرسنل کا بھی فاتحانہ آغاز
23 August 2026
ہاکی ورلڈ کپ میں پاکستان کی 16 سالہ بعد جیت، جاپان کو 3-4 سے شکست دیدی
22 August 2026
سابق کپتان اظہر علی نے بڑا اعزاز اپنے نام کرلیا
22 August 2026
جو روٹ نے سٹیو سمتھ کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا
22 August 2026
انگلینڈ سے شکست کے بعد قومی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر آخری نمبر پر پہنچ گئی
22 August 2026
ورلڈ تائیکوانڈو پریذیڈنٹ کپ ایشیا ریجن اختتام پذیر
22 August 2026
آسٹریلیا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میں بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر
22 August 2026
پاکستانی ویمن فٹ بالر مریم محمود نے انٹرنیشنل آنر بورڈ پر جگہ بنالی
22 August 2026