امریکی کمپنی کا انقلابی منصوبہ: خلا میں مصنوعی کششِ ثقل والے سٹیشنز تیار کرنے کا عندیہ
Web Desk
15 June 2026
ایک امریکی خلائی کمپنی نے ایسے جدید اور انقلابی خلائی سٹیشنز تیار کرنے کا ایک جامع منصوبہ پیش کیا ہے جو خلا میں مصنوعی کششِ ثقل (آرٹیفیشل گریویٹی) پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد خلا کے ماحول میں انسانی صحت کو لاحق ہونے والے شدید خطرات کو کم کرنا اور مریخ سمیت نظامِ شمسی کے دیگر دور دراز سیاروں تک طویل ترین خلائی مشنز کو پُرامن اور ممکن بنانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خلا میں مصنوعی کششِ ثقل کے حامل ان سٹیشنز کی تیاری سے انسانوں کے لیے طویل اور محفوظ ترین خلائی سفر کی نئی راہیں کھلیں گی، جس سے نہ صرف گہری خلائی تحقیق بلکہ مستقبل میں دیگر سیاروں پر ممکنہ انسانی آبادکاری کے امکانات بھی نمایاں طور پر بڑھ جائیں گے۔
طبی اور سائنسی ماہرین کے مطابق خلا میں طویل قیام کے دوران خلا بازوں کو ‘زیرو گریویٹی’ یا صفر کششِ ثقل کے باعث شدید جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جن میں پٹھوں کی شدید کمزوری اور ہڈیوں کے بھر بھرے پن (ڈینسٹی میں کمی) جیسے پچیدہ امراض شامل ہیں۔ اس سنگین طبی مسئلے کے مستقل حل کے لیے ماہرین نے مصنوعی کششِ ثقل کا یہ انوکھا تصور پیش کیا ہے، جس کے تحت خلائی سٹیشن کو اپنے محور پر ایک خاص رفتار سے گھمایا جائے گا۔ اس گھماؤ کے نتیجے میں ‘سینٹری فیوگل فورس’ (مرکز گریز قوت) پیدا ہوگی، جو خلا بازوں کے جسم پر بالکل زمین جیسی کھینچاؤ کی قوت قائم کرے گی اور انہیں خلائی ماحول میں بھی زمین پر موجود ہونے کا حقیقی احساس فراہم کرے گی۔
متعلقہ عنوانات
برطانیہ: کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کا اعلان
15 June 2026
اے آئی استعمال کرنے والی کمپنیوں کی آمدنی میں بہتری، رپورٹ جاری
15 June 2026
آئی فون 18 پرو میکس کے ڈیزائن اور رنگوں سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آگئیں
14 June 2026
گھر بیٹھ کر ڈالرز کمانے کا نیا طریقہ: ایک اور آن لائن روزگار سامنے آگیا
13 June 2026
اسنیپ چیٹ کا کم عمر صارفین کی سیکیورٹی کے لیے اہم قدم!
13 June 2026
دنیا بھر میں میٹا ایپ کے صارفین کو استعمال میں مشکلات
13 June 2026
پاکستان کا 202 دشمن ڈیجیٹل اثاثوں تک رسائی کو محدود کرنے کا انکشاف
12 June 2026
گوگل ڈوڈل بھی ویمنز ٹی 20 ورلڈکپ کے رنگ میں ڈھل گیا
12 June 2026