وفاقی حکومت نے پٹرولیم لیوی میں کمی اور ڈیزل پر لیوی بڑھا دی
Web Desk
13 June 2026
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے نئے ڈھانچے کے تحت پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی، فریٹ مارجن اور دیگر ضمنی اخراجات میں اہم ردوبدل کر دیا ہے۔ وزارتِ توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) کی جانب سے جاری کردہ آفیشل نوٹیفکیشن کے مطابق، پٹرول پر عائد پٹرولیم لیوی میں نمایاں کمی کی گئی ہے جبکہ ڈیزل کے استعمال پر ٹیکس کا بوجھ بڑھاتے ہوئے لیوی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔وفاقی حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف ایندھنوں پر پٹرولیم لیوی کی نئی اور پرانی شرح کی تفصیلی رپورٹ درج ذیل ہے:پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی (Petroleum Levy) میں ردو بدلپٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی میں ہونے والے فرق اور نئی قیمتوں کا موازنہ درج ذیل میز میں دیکھا جا سکتا ہے:ایندھن کی قسم (Fuel Type)سابقہ لیوی (فی لیٹر)نئی لیوی (فی لیٹر)نیٹ کمی / اضافہ (فی لیٹر)پٹرول (Petrol)116 روپے 08 پیسے106 روپے 74 پیسے9 روپے 34 پیسے (کمی)ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD)44 روپے 59 پیسے53 روپے 26 پیسے8 روپے 67 پیسے (اضافہ)فریٹ مارجن، ڈیلرز کمیشن اور ضمنی اخراجات کے نئے نرخنوٹیفکیشن میں ایندھن کی ترسیل کے اخراجات (Freight Margin) اور امپورٹ ڈیوٹیز میں بھی درج ذیل تبدیلیاں کی گئی ہیں:فریٹ مارجن (Inland Freight Margin): پٹرول کی سپلائی پر فی لیٹر فریٹ مارجن میں 4 روپے 45 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر فی لیٹر 2.01 روپے کی کمی کر دی گئی ہے۔ضمنی اخراجات اور ڈیوٹیز: پٹرول پر کسٹمز ڈیوٹی اور دیگر ضمنی اخراجات کی مد میں 9 روپے 30 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ اس کے برعکس ڈیزل پر ان اخراجات میں 9 روپے 57 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ڈیلرز مارجن (Dealers Margin): پٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز کا فی لیٹر منافع برقرار رکھا گیا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل اور پٹرول دونوں پر ڈیلرز کا مارجن 8 روپے 64 پیسے فی لیٹر پر ہی برقرار رہے گا۔دیگر پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی صورتحالمٹی کا تیل اور فرنس آئل کی قیمتیں مستحکم:”حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کے علاوہ دیگر پٹرولیم مصنوعات اور صنعتی ایندھن پر عائد پٹرولیم لیوی کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور پرانی شرح کو برقرار رکھا گیا ہے”۔باقی مصنوعات کے مستقل ریٹس درج ذیل ہیں:ہائی اوکٹین (HOBC): لگژری گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہائی اوکٹین پر لیوی کی سب سے اعلٰی شرح یعنی 305 روپے 37 پیسے فی لیٹر برقرار ہے۔فرنس آئل (Furnace Oil): بجلی کے کارخانوں اور صنعتوں میں استعمال ہونے والے فرنس آئل پر لیوی کی شرح 77 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔مٹی کا تیل (Kerosene Oil): غریب طبقے اور دیہی علاقوں میں استعمال کے لیے مٹی کے تیل پر فی لیٹر لیوی 20 روپے 36 پیسے برقرار رکھی گئی ہے۔لائٹ ڈیزل آئل (LDO): صنعتوں اور ٹیوب ویلوں کے لیے استعمال ہونے والے لائٹ ڈیزل پر فی لیٹر لیوی 15 روپے 84 پیسے پر برقرار ہے۔توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرول پر لیوی کی کمی اور ڈیزل پر اس کے اضافے کا مقصد زرعی اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے ٹیکس بیلنس کو برقرار رکھنا ہے، تاہم ڈیزل پر لیوی بڑھنے سے مال بردار گاڑیوں کے کرایوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس: ایف بی آر کا نیا “فیس لیس آڈٹ سسٹم” اور ٹیکس چوری کے ہولناک انکشافات
17 June 2026
صارفین کیلئے بُری خبر! بجلی 82 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع
17 June 2026
پاکستان سٹاک مارکیٹ ایک لاکھ 81 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گئی
17 June 2026
سندھ اور بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا
17 June 2026
معاہدے کے تحت ایران کو فوری طور پر تیل فروخت کی اجازت دی جائے گی، امریکی اخبار
17 June 2026
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں ایران امریکا تاریخی امن معاہدے کے مثبت اثرات کے باعث زبردست تیزی کا رجحان
16 June 2026
صرافہ ایسوسی ایشن کا ایف بی آر سے تمام مذاکرات معطل کرنے کا اعلان
16 June 2026
پنجاب کابینہ نے 5850 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی
16 June 2026