LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل مہنگا کر دیا گیا بجلی صارفین کو ایک اور جھٹکا، فی یونٹ 2 روپے 6 پیسے مہنگا امریکی معیشت مضبوط، روزگار میں اضافہ ہوا، اب شرح سود کم کی جائے: ٹرمپ ظلم کے باوجود عمران خان اور پی ٹی آئی کارکن ڈٹے ہوئے ہیں: سہیل آفریدی جے ڈی وینس کا آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بحال ہونے کا دعویٰ بھارت میں طوفانی بارشیں، دہلی ایئرپورٹ میں پانی داخل، ریڈ الرٹ جاری اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس، حالیہ سفارتی سرگرمیوں اور آئندہ ترجیحات کا جائزہ نیویارک میں یہود مخالف جرائم میں اضافہ: این وائی پی ڈی کی جانب سے سب سے محفوظ ترین موسمِ گرما کے دعوے کے باوجود اعداد و شمار جاری قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس: قانون سازی میں عدم شرکت کے پارٹی فیصلے کے باعث جی آئی ڈی سی اور گیس سرچارج بل موخر عالمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اقوام متحدہ کو مزید مضبوط بنانا ہوگا: وزیراعظم گومل یونیورسٹی سے ملحقہ نجی کالجز کے ریکارڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف پاکستان کو دوبارہ عروج و زوال کے معاشی چکر میں نہیں جانے دیں گے: وزیر خزانہ خیبرپختونخوا کا ٹرانسپورٹ نظام بحران کا شکار، بدانتظامی کے سنگین انکشافات یورپی یونین بھی ایران کے خلاف اقتصادی آپریشن میں شامل ہو گئی: امریکا پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ جاری

رومانوی ہیرو سنتوش کمار کو دنیا سے رخصت ہوئے 44 برس بیت گئے

Web Desk

11 June 2026

لاہور: اپنی جاندار اداکاری، شاندار ڈائیلاگ ڈلیوری اور پرکشش شخصیت کے ذریعے دو عشروں تک پاکستانی فلم انڈسٹری (Lollywood) کے افق پر راج کرنے والے برصغیر کے مقبول ترین رومانوی ہیرو سنتوش کمار کو مداحوں سے بچھڑے 44 برس بیت گئے ہیں۔ 11 جون 1982 کو اس دارِ فانی سے کوچ کر جانے والے اس باکمال اداکار کے لازوال کردار اور فنی نقوش آج بھی فلمی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہیں۔

ماضی کے اس جاذبِ نظر اور زبان و بیان کے ماہر اداکار کے فنی سفر اور زندگی کے اہم ترین گوشے درج ذیل ہیں: سنتوش کمار 25 دسمبر 1925 کو زندہ دلانِ لاہور کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام سید موسیٰ رضا تھا، تاہم اس دور کی فلمی روایت کے مطابق انہوں نے فلموں کے لیے ‘سنتوش کمار’ کا نام اختیار کیا جو ان کی پہچان بنا۔ تقسیمِ ہند سے قبل ہمسایہ ملک کی چند فلموں میں جلوہ گر ہونے کے بعد وہ مستقل طور پر لاہور منتقل ہو گئے۔سنتوش کمار کے حصے میں پاکستان کی ابتدائی فلمی تاریخ کے کئی بڑے اعزازات آئے:

 سال 1950 میں پاکستان کی پہلی سلور جوبلی ہٹ فلم “دو آنسو” میں انہوں نے بطور ہیرو ایک یادگار اور تاریخی رول ادا کیا۔فلم ‘عشق لیلیٰ’ میں ان کی لازوال اداکاری کو شائقین کبھی نہ بھول پائے، جبکہ اداکارہ نیلو کی پہلی فلم ‘سات لاکھ’ میں بھی مرکزی کردار سنتوش کمار نے ہی نبھایا۔اداکارہ شمیم آرا کے ہمراہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی رنگین (Color) فلم میں ہیرو کا مرکزی کردار ادا کرنے کا اعزاز بھی انہی کے حصے میں آیا۔ میں ان کی زبردست اور جاندار اداکاری پر انہیں فلمی صنعت کے معتبر ترین ‘نگار ایوارڈ’ سے نوازا گیا۔ سنتوش کمار اور اس دور کی نامور اداکارہ صبیحہ خانم کی جوڑی لالی ووڈ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے کامیاب ترین رومانوی جوڑی کہلائی۔ دونوں فنکاروں نے سال 1958 میں حقیقی زندگی میں شادی کی، جس کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر 37 فلموں میں ایک ساتھ مرکزی کردار ادا کیے اور کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ جب سنتوش کمار کی بلاک بسٹر فلم “موسیقار” ہمسایہ ملک میں ریلیز ہوئی، تو وہاں کے فلمی پنڈتوں اور شائقین نے ان کی سحر انگیز شخصیت اور کلاسیکی اداکاری سے متاثر ہو کر انہیں “گاڈ آن دی اسکرین” (God on the Screen) کا شاندار خطاب دیا۔سنتوش کمار کا پورا خاندان ہی فلمی دنیا کا محور رہا۔ ان کے چھوٹے بھائی درپن نے بھی بطور ہیرو بے شمار سلیبریٹی فلموں میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا، جبکہ ان کے دوسرے چھوٹے بھائی ایس سلیمان لالی ووڈ کے ایک انتہائی کامیاب اور صفِ اول کے ہدایت کار (Director) کے روپ میں سامنے آئے۔ اگرچہ آج یہ تینوں باصلاحیت بھائی اس دنیا میں موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا تخلیق کردہ فن اور فلمی ورثہ آج بھی پاکستان میں سینما کے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے۔