رومانوی ہیرو سنتوش کمار کو دنیا سے رخصت ہوئے 44 برس بیت گئے
Web Desk
11 June 2026
لاہور: اپنی جاندار اداکاری، شاندار ڈائیلاگ ڈلیوری اور پرکشش شخصیت کے ذریعے دو عشروں تک پاکستانی فلم انڈسٹری (Lollywood) کے افق پر راج کرنے والے برصغیر کے مقبول ترین رومانوی ہیرو سنتوش کمار کو مداحوں سے بچھڑے 44 برس بیت گئے ہیں۔ 11 جون 1982 کو اس دارِ فانی سے کوچ کر جانے والے اس باکمال اداکار کے لازوال کردار اور فنی نقوش آج بھی فلمی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہیں۔
ماضی کے اس جاذبِ نظر اور زبان و بیان کے ماہر اداکار کے فنی سفر اور زندگی کے اہم ترین گوشے درج ذیل ہیں: سنتوش کمار 25 دسمبر 1925 کو زندہ دلانِ لاہور کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے، ان کا اصل نام سید موسیٰ رضا تھا، تاہم اس دور کی فلمی روایت کے مطابق انہوں نے فلموں کے لیے ‘سنتوش کمار’ کا نام اختیار کیا جو ان کی پہچان بنا۔ تقسیمِ ہند سے قبل ہمسایہ ملک کی چند فلموں میں جلوہ گر ہونے کے بعد وہ مستقل طور پر لاہور منتقل ہو گئے۔سنتوش کمار کے حصے میں پاکستان کی ابتدائی فلمی تاریخ کے کئی بڑے اعزازات آئے:
سال 1950 میں پاکستان کی پہلی سلور جوبلی ہٹ فلم “دو آنسو” میں انہوں نے بطور ہیرو ایک یادگار اور تاریخی رول ادا کیا۔فلم ‘عشق لیلیٰ’ میں ان کی لازوال اداکاری کو شائقین کبھی نہ بھول پائے، جبکہ اداکارہ نیلو کی پہلی فلم ‘سات لاکھ’ میں بھی مرکزی کردار سنتوش کمار نے ہی نبھایا۔اداکارہ شمیم آرا کے ہمراہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی رنگین (Color) فلم میں ہیرو کا مرکزی کردار ادا کرنے کا اعزاز بھی انہی کے حصے میں آیا۔ میں ان کی زبردست اور جاندار اداکاری پر انہیں فلمی صنعت کے معتبر ترین ‘نگار ایوارڈ’ سے نوازا گیا۔ سنتوش کمار اور اس دور کی نامور اداکارہ صبیحہ خانم کی جوڑی لالی ووڈ کی تاریخ کی پہلی اور سب سے کامیاب ترین رومانوی جوڑی کہلائی۔ دونوں فنکاروں نے سال 1958 میں حقیقی زندگی میں شادی کی، جس کے بعد انہوں نے مجموعی طور پر 37 فلموں میں ایک ساتھ مرکزی کردار ادا کیے اور کامیابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ جب سنتوش کمار کی بلاک بسٹر فلم “موسیقار” ہمسایہ ملک میں ریلیز ہوئی، تو وہاں کے فلمی پنڈتوں اور شائقین نے ان کی سحر انگیز شخصیت اور کلاسیکی اداکاری سے متاثر ہو کر انہیں “گاڈ آن دی اسکرین” (God on the Screen) کا شاندار خطاب دیا۔سنتوش کمار کا پورا خاندان ہی فلمی دنیا کا محور رہا۔ ان کے چھوٹے بھائی درپن نے بھی بطور ہیرو بے شمار سلیبریٹی فلموں میں اپنی اداکاری کا لوہا منوایا، جبکہ ان کے دوسرے چھوٹے بھائی ایس سلیمان لالی ووڈ کے ایک انتہائی کامیاب اور صفِ اول کے ہدایت کار (Director) کے روپ میں سامنے آئے۔ اگرچہ آج یہ تینوں باصلاحیت بھائی اس دنیا میں موجود نہیں ہیں، لیکن ان کا تخلیق کردہ فن اور فلمی ورثہ آج بھی پاکستان میں سینما کے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
متعلقہ عنوانات
واشنگٹن میں یوروایشیا شارٹس 2026 فلم فیسٹیول؛ پاکستان کی پہلی بار شرکت،
11 June 2026
مریم نفیس کا جنسی زیادتی کے واقعات پر اظہارِ تشویش
11 June 2026
پنجاب حکومت کا لاہور میں جدید فلم اینڈ میوزک سکول قائم کرنے کا فیصلہ
11 June 2026
امتیاز علی کا اغوا جیسے سنگین واقعے کا شکار ہونے کا انکشاف
10 June 2026
دماغی امراض سے متعلق آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے، ماہرہ خان
10 June 2026
ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کی ایک اور ویڈیو وائرل، پولیس پر الزامات کی حقیقت سامنے آگئی
9 June 2026
ثمر جعفری نے عمرے کی سعادت حاصل کر لی، مداحوں کی مبارکباد
9 June 2026
لائسنس معطلی کی درخواست : مومنہ اور ثاقب کے وکلاء پنجاب بار کونسل طلب
9 June 2026