LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیفا عالمی کپ 2026 کا شاندار آغاز، میکسیکو میں رنگا رنگ افتتاحی تقریب ٹرمپ نے ایران پر حملے منسوخ کرنے کا اعلان کردیا آزاد کشمیر انتخابات: تحریک انصاف نے 11 رکنی اپیلیٹ بورڈ قائم کر دیا سان ڈیاگو سانحہ: متاثرہ مسلم کمیونٹی سے یکجہتی، آئی سی این اے ریلیف قیادت کا دورہ کشمیر میں نہتے نوجوانوں کو شہید کیا گیا، ریاست کہاں جارہی ہے؟  سلمان اکرم راجہ اقتصادی سروے میں غربت بڑھنے کا انکشاف، بلوچستان سب سے متاثرہ صوبہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن کا بیٹھک؛ پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس قومی اقتصادی سروے پیش، کئی شعبوں میں معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکے میڈیا انڈسٹری کو درپیش مالی مشکلات کے حل کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا: عطا تارڑ قومی اسمبلی اجلاس؛ اپوزیشن رکن اقبال آفریدی کی رکنیت پورے بجٹ سیشن کے لیے معطل توانائی بچت مہم، کاروباری اوقات کار کا نیا نوٹیفکیشن جاری وفاقی آئینی عدالت نے مونال ریسٹورنٹ فوری کھولنے کی استدعا مسترد کر دی بھارت کی آبی جارحیت جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دے گی: دفتر خارجہ وزیرِ خزانہ نے اکنامک سروے آف پاکستان 26-2025ء وزیرِ اعظم کو پیش کر دیا ایس آئی ایف سی کی بدولت پاکستان کے آئی ٹی شعبے میں نمایاں کامیابیاں

تحریکِ انصاف کا اندرونی اختلاف کھل کر سامنے آگیا؛ جنرل سیکرٹری کے اعلامیے پر علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو لیک

Web Desk

11 June 2026

پشاور: پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) کے اندرونی اختلافات اور دھڑے بندی اس وقت کھل کر پبلک کے سامنے آگئی جب سابق وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی پارٹی کے پارلیمانی واٹس ایپ گروپ (Parliamentary WhatsApp Group) میں بھیجی گئی ایک مبینہ آڈیو لیک ہو گئی۔ آڈیو میں سابق وزیرِ اعلیٰ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کی جانب سے ناراض ارکانِ اسمبلی کے خلاف جاری کیے گئے حالیہ اعلامیے اور شوکاز نوٹسز پر شدید برہم دکھائی دیے اور انہوں نے اس طرزِ عمل کو پارٹی کے اندر “ڈکٹیٹر شپ” (آمرانہ رویہ) قرار دے کر مسترد کر دیا۔

مبینہ آڈیو لنک میں علی امین گنڈاپور کی جانب سے اٹھائے گئے سنگین سوالات اور شکووں کی تفصیلات

علی امین گنڈاپور نے شکوہ کیا کہ ماضی میں جب وہ وزیرِ اعلیٰ تھے، تو اس وقت خود پارٹی کے صوبائی صدر نے ان کی اپنی ہی حکومت کے خلاف کھل کر باتیں کی تھیں، لیکن تب کسی نے نوٹس جاری نہیں کیا۔

“میرے دورِ حکومت میں ایک رکن نے پوری صوبائی کابینہ پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ مجھ پر اور میری کابینہ پر الزام تراشی کرنے والوں میں متعدد موجودہ ارکان سمیت خود موجودہ وزیرِ اعلیٰ بھی شامل تھے، جو آج خود اسی کابینہ کا حصہ ہیں اور حکومت چلا رہے ہیں۔”

 انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سابق دور میں ان پر اور ان کی کابینہ پر سرِعام الزامات لگانے والوں کو پارٹی نے کبھی کوئی نوٹس جاری کیا تھا؟ اگر میرے دور میں ایسے عناصر کو نوٹسز جاری کیے جاتے تو آج ناراض ارکان کو نوٹس دینے کی کوئی اخلاقی وقعت یا قانونی حیثیت ہوتی۔ سابق وزیرِ اعلیٰ نے پارٹی قیادت کو دوٹوک الفاظ میں مفت مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ دھونس، دھمکیوں اور اعلامیوں کے بجائے ناراض ارکانِ اسمبلی (MPAs) کے جائز تحفظات کو فوری دور کیا جائے۔ انہوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “پارٹی کے ناراض ایم پی ایز کوئی زر خرید غلام نہیں ہیں کہ ان پر جب چاہا نوٹسز کی بوچھاڑ کر دی جائے۔ اس طرح کے آمرانہ رویوں سے پارٹی کے معاملات سلجھنے کے بجائے مزید خراب ہوں گے”۔

“تم ناچو تو فیشن، ہم ناچیں تو مجرا” اپنے مخصوص اور سخت اندازِ بیان میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ پارٹی کسی ایک شخص کی جاگیر یا ملکیت نہیں ہے بلکہ ہم سب کی مشترکہ سیاسی جدوجہد ہے۔ انہوں نے طنزیہ طور پر ایک مشہور ضرب المثل کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ “یہ کیا بات ہوئی کہ تم ناچو تو فیشن، اور ہم ناچیں تو مجرا؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ جو شخص آج دوسروں کو نوٹس بھیج رہا ہے، وہ ماضی کے اقدامات کو دیکھ کر پہلے خود کو شوکاز نوٹس جاری کرے۔

اس آڈیو لیک کے بعد خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں سنسنی پھیل گئی ہے اور تحریکِ انصاف کی صوبائی قیادت اور سابق وزیرِ اعلیٰ کے حامیوں کے درمیان خلیج مزید گہری ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے