LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فیفا ورلڈ کپ کے ابتدائی دو راؤنڈز میں 5 ٹیمیں ٹورنامنٹ سے باہر پیشگوئی کرتا ہوں اگلا بجٹ شہباز حکومت پیش نہیں کرے گی، سہیل آفریدی یورپ شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں,فرانس میں 40 افراد جاں بحق، کئی ممالک میں گرمی کے ریکارڈ ٹوٹ گئے سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان پاکستان کی پرو ہاکی لیگ میں لگاتار 14ویں شکست، انگلینڈ نے بھی ہرا دیا خیبر پختونخوا فنانس بل میں نئے ٹیکس عائد، جرمانوں میں بڑا اضافہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے نئے مالی سال کا 2170 ارب کا بجٹ منظور کر لیا گورنر تبوک کا شہباز شریف سے رابطہ، پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا پاکستان اور ایران کی امنگیں اور مقاصد مشترکہ ہیں، ایرانی صدر پزشکیان غزہ استحکام فورس: مراکش کا فوجی دستہ اسرائیل پہنچ گیا پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ مکمل کریں گے، بلاول بھٹو وزیراعظم کی حج 2026 کے منتظمین کی ملاقات، شہباز شریف نے مبارکباد دی عراق نے پاکستانی زائرین کے لیے نئی ویزا شرائط جاری کر دیں حکومت کا پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ پر کنٹرول مزید مضبوط، شیئر ہولڈنگ میں اضافہ فیلڈ مارشل سے لیبیا کے نائب کمانڈر انچیف کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے پر زور

تھینکس گیونگ: طویل اور انوکھی تاریخ

Web Desk

27 November 2025

امریکہ میں تھینکس گیونگ کی تاریخ سترہویں صدی میں زائرین کی آمد سے جڑی ہے، جن کی بقا میں مقامی امریکی وامپانواگ قبیلے کا اہم کردار تھا۔ دنیا بھر میں فصلوں کے تہوار منائے جاتے ہیں، لیکن امریکہ میں تھینکس گیونگ ایک منفرد تہوار ہے جو ملکی نفسیات اور ثقافت کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بعض امریکی خاندان اسے کرسمس، عید اور ہانوکا جیسے مذہبی تہواروں سے بھی اہمیت دیتے ہیں۔

امریکی صدر ابراہم لنکن نے 1863ء میں نومبر کی آخری جمعرات کو تھینکس گیونگ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ 1941ء میں صدر فرانکلن روزویلیٹ نے کانگریس کی قرارداد پر دستخط کیے اور اسے نومبر کی چوتھی جمعرات کو قومی دن کے طور پر مقرر کیا۔

یہ روایت زائرین یا پیلگرمز سے آئی، جو 1620ء میں مے فلاور نامی کشتی پر یورپ سے شمالی امریکہ پہنچے۔ چرچ آف انگلینڈ سے لاتعلقی کے بعد یہ لوگ نیدرلینڈز میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے اور مذہبی آزادی کی تلاش میں یہاں آئے۔ زائرین خواتین اور بچوں کے ساتھ مجموعی طور پر 102 افراد پر مشتمل تھے۔

مے فلاور 30 میٹر اونچی کشتی تھی، جو آج کے پروینس ٹاؤن، میساچوسٹس میں رکی۔ ابتدائی زمین ریتیلی ہونے کی وجہ سے آبادکار خلیج کے دوسرے جانب منتقل ہوئے اور دسمبر 1620 میں پلیماؤتھ کالونی کی بنیاد رکھی۔ سخت موسم میں مقامی وامپانواگ قبائل نے ان کو خوراک فراہم کی اور زراعت کے طریقے سکھائے۔

اگلے سال، یورپی آبادکاروں اور وامپانواگ قبیلے نے فصل کی خوشی میں تھینکس گیونگ کا جشن منایا، جس میں فیل مرغ، مکئی اور شکرقندی شامل تھی۔ یہ بقائے باہمی کی ایک انوکھی مثال تھی، لیکن بعد میں یورپی آبادکاروں کی توسیع اور تشدد کے باعث یہ تعلق ختم ہو گیا۔ آج بھی مقامی امریکی تھینکس گیونگ کو اپنے آباؤ اجداد کے قتل اور زمینیں کھو دینے کی یادگار کے طور پر مناتے ہیں۔