LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، ایرانی میڈیا ایران سے معاہدہ ہوا تو اسلام آباد جا سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1ارب 32 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ، بحران جلد حل ہو جائیگا: وزیر توانائی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کمانڈو و سپیشل فورسز مشق ’’جناح XIII کامیابی سے مکمل وزیراعظم دوحہ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، امیرِ قطر سے ملاقات متوقع حج آپریشن 2026 میں بڑی پیش رفت؛ ‘روڈ ٹو مکہ’ پراجیکٹ کے لیے سعودی امیگریشن ٹیم کراچی پہنچ گئی پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ معاشی استحکام کی جانب بڑی پیش رفت؛ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیے پاکستان نیوی کا مقامی اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ لبنان اور اسرائیل 34 برس بعد آج براہ راست بات چیت کریں گے: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز امریکا کی آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز کارروائیاں، ایران نے نتائج سے خبردار کر دیا پاور ڈویژن کی ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تصدیق ٹرمپ کی برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

تھینکس گیونگ: طویل اور انوکھی تاریخ

Web Desk

27 November 2025

امریکہ میں تھینکس گیونگ کی تاریخ سترہویں صدی میں زائرین کی آمد سے جڑی ہے، جن کی بقا میں مقامی امریکی وامپانواگ قبیلے کا اہم کردار تھا۔ دنیا بھر میں فصلوں کے تہوار منائے جاتے ہیں، لیکن امریکہ میں تھینکس گیونگ ایک منفرد تہوار ہے جو ملکی نفسیات اور ثقافت کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ بعض امریکی خاندان اسے کرسمس، عید اور ہانوکا جیسے مذہبی تہواروں سے بھی اہمیت دیتے ہیں۔

امریکی صدر ابراہم لنکن نے 1863ء میں نومبر کی آخری جمعرات کو تھینکس گیونگ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا، جبکہ 1941ء میں صدر فرانکلن روزویلیٹ نے کانگریس کی قرارداد پر دستخط کیے اور اسے نومبر کی چوتھی جمعرات کو قومی دن کے طور پر مقرر کیا۔

یہ روایت زائرین یا پیلگرمز سے آئی، جو 1620ء میں مے فلاور نامی کشتی پر یورپ سے شمالی امریکہ پہنچے۔ چرچ آف انگلینڈ سے لاتعلقی کے بعد یہ لوگ نیدرلینڈز میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے اور مذہبی آزادی کی تلاش میں یہاں آئے۔ زائرین خواتین اور بچوں کے ساتھ مجموعی طور پر 102 افراد پر مشتمل تھے۔

مے فلاور 30 میٹر اونچی کشتی تھی، جو آج کے پروینس ٹاؤن، میساچوسٹس میں رکی۔ ابتدائی زمین ریتیلی ہونے کی وجہ سے آبادکار خلیج کے دوسرے جانب منتقل ہوئے اور دسمبر 1620 میں پلیماؤتھ کالونی کی بنیاد رکھی۔ سخت موسم میں مقامی وامپانواگ قبائل نے ان کو خوراک فراہم کی اور زراعت کے طریقے سکھائے۔

اگلے سال، یورپی آبادکاروں اور وامپانواگ قبیلے نے فصل کی خوشی میں تھینکس گیونگ کا جشن منایا، جس میں فیل مرغ، مکئی اور شکرقندی شامل تھی۔ یہ بقائے باہمی کی ایک انوکھی مثال تھی، لیکن بعد میں یورپی آبادکاروں کی توسیع اور تشدد کے باعث یہ تعلق ختم ہو گیا۔ آج بھی مقامی امریکی تھینکس گیونگ کو اپنے آباؤ اجداد کے قتل اور زمینیں کھو دینے کی یادگار کے طور پر مناتے ہیں۔