LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سندھ کے عوام نے فسطائیت کا جس طرح مقابلہ کیا، انہیں سلام پیش کرتا ہوں: سہیل آفریدی ایرانی بحریہ کا دشمن افواج کو کسی بھی مقام پر مفلوج کرنے کا دعویٰ روس کے ساتھ جنگ موسمِ سرما تک جاری رہ سکتی ہے: زیلنسکی جرمنی میں پولیس نے 21 بموں کے ناکارہ بنادیا جاپان سندھ میں سیلاب سے بچاؤ کیلیے 16.4 ملین ڈالر کی گرانٹ دے گا پاکستان شدید ترین سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں کی زد میں ہے: علامہ راجا ناصر عباس سینیٹ داخلہ کمیٹی کا اجلاس: بلیو پاسپورٹس کی غیر قانونی تقسیم، نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ اور سخت سزاؤں پر اہم سفارشات امریکا کے ساتھ سٹریٹجک اتحاد اچھی بات ہے مگر کافی نہیں: قطر مادرِ وطن کا دفاع مقدس امانت، ثابت قدمی سے نبھاتے رہیں گے: ایئر چیف مارشل ایران کی جنوبی کوریا کو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے دور رہنے کی تنبیہ ٹرمپ کی ریاست نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے نیو امریکا رکھنے کی تجویز قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کے اہلخانہ پر پولیس کا دھاوا، 11 افراد گرفتاری کے بعد رہا امریکی ریپر نے نیوجرسی کانسرٹ کو فلسطین کے حق میں مظاہرے میں بدل دیا جنگ کے ابتدائی حملوں میں تباہ ہونے والے ایرانی سکول کو یادگار بنا دیا گیا بھارت کے یکطرفہ اقدامات متنازع جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے: پاکستان

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے میں صرف 8 دن باقی

Web Desk

15 April 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی کے خاتمے میں اب صرف آٹھ دن باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث عالمی برادری کی نظریں واشنگٹن اور تہران پر مرکوز ہیں۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائنز اگرچہ اہم ہوتی ہیں، تاہم وہ ماضی میں اکثر لچکدار ثابت ہوئی ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے حوالے سے مثبت پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ تاحال کسی بھی فریق نے بات چیت کے مکمل خاتمے کا اعلان نہیں کیا، جو سفارتی حل کی امید کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی فریق کو اس وقت شدید اعتماد کے فقدان کا سامنا ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں دو مرتبہ مذاکرات کے عمل میں شامل ہونے کے باوجود انہیں حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ کے سامنے دو اہم ترجیحات ہیں: اول یہ کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں الجھنا نہیں چاہتے، اور دوم یہ کہ وہ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے ایٹمی معاہدے سے کہیں زیادہ “بہتر اور سخت” نیوکلیئر ڈیل حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مذاکرات سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ٹرمپ ایک ایسے معاہدے پر آمادہ ہو جائیں جس کے تحت ایران کو ایک مخصوص اور طویل مدت تک جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین کے درمیان ضمانتوں اور سیکیورٹی کے معاملات پر اتفاق ہو جاتا ہے، تو آنے والے آٹھ دن خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اس تمام عمل میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔