LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
واشنگٹن نے ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی ختم کر کے مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔ ایران سعودی عرب نے بھی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا الزام ایران پر عائد کر دیا ائیل ٹینکروں پر حملہ: امریکا نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت انتہائی خطرناک قرار دیدی امریکا مذاکرات کو ناکامی کی طرف لے جائے گا: محسن رضائی امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دینے والا لائسنس منسوخ کردیا ایران نے آبنائے ہرمز میں قطری جہاز پر حملے کے الزام کو مسترد کر دیا آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر کو نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا، برطانوی میری ٹائم ایجنسی ایران کے خلاف طاقتور حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، امریکی سینٹرل کمانڈ ایران میں قشم جزیرے، سیریک، بندر عباس میں دھماکے سنے گئے: ایرانی میڈیا ترکیہ سے پابندیاں ہٹانے جارہے ہیں، ہم دوستوں پر پابندیاں نہیں لگاتے: ڈونلڈ ٹرمپ ایشیا کپ 2027ء کیلئے ڈھاکا سمیت وینیوز زیر غور ہیں، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو طیارہ لاپتا ہوگیا جس کی تلاش شروع کر دی گئی۔ بلاول بھٹو کی گلگت بلتستان کی نومنتخب حکومت کو 100 روزہ ترقیاتی پلان تیار کرنے کی ہدایت وفاقی وزیر احسن اقبال کا یونیورسٹی آف الینوائے شکاگو کا دورہ، جناح میڈیکل کمپلیکس اور پی کے ایل آئی کے ساتھ طبی و تحقیقی تعاون پر تبادلہ خیال سندھ میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع، صوبائی کابینہ نے منظوری دے دی

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے میں صرف 8 دن باقی

Web Desk

15 April 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری عارضی جنگ بندی کے خاتمے میں اب صرف آٹھ دن باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث عالمی برادری کی نظریں واشنگٹن اور تہران پر مرکوز ہیں۔ عالمی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائنز اگرچہ اہم ہوتی ہیں، تاہم وہ ماضی میں اکثر لچکدار ثابت ہوئی ہیں۔ پاکستان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے حوالے سے مثبت پہلو یہ سامنے آیا ہے کہ تاحال کسی بھی فریق نے بات چیت کے مکمل خاتمے کا اعلان نہیں کیا، جو سفارتی حل کی امید کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی فریق کو اس وقت شدید اعتماد کے فقدان کا سامنا ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں دو مرتبہ مذاکرات کے عمل میں شامل ہونے کے باوجود انہیں حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ کے سامنے دو اہم ترجیحات ہیں: اول یہ کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی طویل اور تھکا دینے والی جنگ میں الجھنا نہیں چاہتے، اور دوم یہ کہ وہ سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے ایٹمی معاہدے سے کہیں زیادہ “بہتر اور سخت” نیوکلیئر ڈیل حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مذاکرات سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ ٹرمپ ایک ایسے معاہدے پر آمادہ ہو جائیں جس کے تحت ایران کو ایک مخصوص اور طویل مدت تک جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فریقین کے درمیان ضمانتوں اور سیکیورٹی کے معاملات پر اتفاق ہو جاتا ہے، تو آنے والے آٹھ دن خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اس تمام عمل میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر دونوں ممالک کے درمیان برف پگھلانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔