امریکا کی کئی ممالک پر نئے ٹیرف کی تجویز، پاکستان بھی شامل
Web Desk
3 June 2026
واشنگٹن / اسلام آباد: امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر (USTR) نے جبری مشقت (Forced Labor) کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزام میں پاکستان سمیت دنیا کے 60 ممالک پر نئے تجارتی ٹیرف اور اضافی ڈیوٹیز عائد کرنے کی ایک بڑی تجویز پیش کر دی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکہ کی جانب سے تجویز کردہ یہ نئی ڈیوٹیز 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوں گی۔ تاہم، ان ٹیرف کے نفاذ کے حتمی فیصلے سے قبل عوامی رائے عامہ اور باقاعدہ سماعت کا قانونی عمل مکمل کیا جائے گا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ایک جامع تحقیقاتی جائزہ لیا گیا، جس کا محور یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا امریکہ کے تجارتی شراکت دار ممالک اپنے ہاں جبری مشقت سے تیار کی جانے والی اشیاء کی درآمد کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات اٹھا رہے ہیں یا نہیں۔
اس کڑی تفتیش اور مانیٹرنگ کی زد میں صرف ترقی پذیر ممالک ہی نہیں، بلکہ چین، یورپی یونین (EU) اور جاپان جیسے بڑے معاشی کھلاڑی بھی آئے۔ امریکی رپورٹ کے مطابق، دنیا کے 54 ممالک ایسے پائے گئے جو جبری مشقت سے بنی اشیاء کی درآمد پر اپنے ہاں سرے سے پابندی نافذ کرنے میں ہی مکمل ناکام رہے۔ پاکستان سمیت 6 ممالک ایسے پائے گئے جہاں جبری مشقت کے حوالے سے قوانین یا پابندیاں تو موجود ہیں، لیکن ان پر مؤثر طریقے سے عملدرآمد (Enforcement) نہیں کروایا جا رہا۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے اس حوالے سے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت جیسے حساس اور سنگین مسئلے کو مسلسل نظر انداز کرنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ ان کے بقول، اس غفلت اور سستی کی وجہ سے مارکیٹ میں سستی اشیاء پہنچتی ہیں، جس سے امریکی ورکرز کو ایک غیر منصفانہ معاشی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یو ایس ٹی آر (USTR) کی رپورٹ کے مطابق، مجوزہ ٹیرف پلان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
| زمرہ / ممالک | مجوزہ اضافی ڈیوٹی (Tariff) |
| پاکستان سمیت چند مخصوص ممالک | 10% اضافی ڈیوٹی |
| باقی دیگر 45 ممالک | 12.5% تک ٹیرف |
امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس سخت تادیبی اقدام کے دوران کچھ مخصوص اشیاء کو ٹیرف سے استثنیٰ حاصل رہے گا، جن میں درج ذیل شامل ہیں:
-
بیف (بڑے کا گوشت)
-
کافی
-
بعض مخصوص پھل اور خشک میوہ جات (ڈرائی فروٹس)
-
شمالی امریکہ کے تجارتی معاہدے کے تحت کینیڈا اور میکسیکو سے آنے والی مخصوص مصنوعات
امریکی حکومت نے اس مجوزہ پالیسی پر عوام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات طلب کر لیے ہیں۔ اس ڈیڈ لائن کے بعد باقاعدہ سماعتوں (Hearings) کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے بعد ہی ٹیرف کے نفاذ کا حتمی اور باضابطہ اعلان ہوگا۔
یہ اہم ترین پیش رفت ایک ایسے منفرد پس منظر میں سامنے آئی ہے جب نومبر 2024 میں دوبارہ منتخب ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ماضی میں عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف آئندہ 24 جولائی کو ختم ہونے والا ہے۔ ٹرمپ کے اس عارضی ٹیرف کو امریکی سپریم کورٹ نے پہلے ایک قانونی چیلنج کے بعد تکنیکی بنیادوں پر کالعدم قرار دے دیا تھا۔
متعلقہ عنوانات
برطانیہ کے ہوائی اڈوں پر سائبر حملہ، صارفین کا حساس ڈیٹا چوری
28 August 2026
سی آئی اے چیف کا ماسکو کا دورہ، روس کو سنگین نتائج کی دھمکی
28 August 2026
نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 390 ہوگئیں، ایک ہزار سے زائد افراد لاپتہ
28 August 2026
ٹرمپ نے نہر اونٹاریو کا نام بدل کر نہر امریکا رکھنے کا حکم دے دیا
28 August 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی تردید کر دی
28 August 2026
آبنائے ہرمز میں کویتی آئل ٹینکر السلام ٹو پر حملہ، عملہ محفوظ
28 August 2026
ایران نے امریکی اقتصادی پابندیوں کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا
28 August 2026
سانحہ پمز ہسپتال: اقوام متحدہ کا 14 نومولود کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس
28 August 2026