LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برطانیہ کے ہوائی اڈوں پر سائبر حملہ، صارفین کا حساس ڈیٹا چوری سی آئی اے چیف کا ماسکو کا دورہ، روس کو سنگین نتائج کی دھمکی نیپال اور تبت میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 390 ہوگئیں، ایک ہزار سے زائد افراد لاپتہ ٹرمپ نے نہر اونٹاریو کا نام بدل کر نہر امریکا رکھنے کا حکم دے دیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات کی تردید کر دی آبنائے ہرمز میں کویتی آئل ٹینکر السلام ٹو پر حملہ، عملہ محفوظ ایران نے امریکی اقتصادی پابندیوں کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کر لیا سانحہ پمز ہسپتال: اقوام متحدہ کا 14 نومولود کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس حکومت کا سانحہ پمز کے لواحقین کیلئے فی کس 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان یورپ کو اپنے دفاع کی زیادہ ذمہ داری خود سنبھالنا ہوگی، امریکا کا واضح پیغام پابندیوں کے باوجود تیل کی عالمی منڈیوں تک ترسیل جاری ہے، ایرانی وزیر پٹرولیم اسرائیلی فوج کو فنڈز کی کمی کا سامنا، جنگی تیاری متاثر ہونے کا اعتراف امریکی طیارہ بردار جہاز تھیوڈور روز ویلٹ مشرق وسطیٰ بھیجنے کا فیصلہ امریکا نے کارروائی کی تو ایسا نقصان پہنچائیں گے جو تاریخ میں یاد رہے گا، محسن رضائی ایلیٹ سینٹر میں 2 اے ایس آئی دوران دوڑ جاں بحق ، ایک اہلکار ہسپتال منتقل

امریکا کی کئی ممالک پر نئے ٹیرف کی تجویز، پاکستان بھی شامل

Web Desk

3 June 2026

واشنگٹن / اسلام آباد: امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر (USTR) نے جبری مشقت (Forced Labor) کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزام میں پاکستان سمیت دنیا کے 60 ممالک پر نئے تجارتی ٹیرف اور اضافی ڈیوٹیز عائد کرنے کی ایک بڑی تجویز پیش کر دی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، امریکہ کی جانب سے تجویز کردہ یہ نئی ڈیوٹیز 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوں گی۔ تاہم، ان ٹیرف کے نفاذ کے حتمی فیصلے سے قبل عوامی رائے عامہ اور باقاعدہ سماعت کا قانونی عمل مکمل کیا جائے گا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ایک جامع تحقیقاتی جائزہ لیا گیا، جس کا محور یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا امریکہ کے تجارتی شراکت دار ممالک اپنے ہاں جبری مشقت سے تیار کی جانے والی اشیاء کی درآمد کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات اٹھا رہے ہیں یا نہیں۔

اس کڑی تفتیش اور مانیٹرنگ کی زد میں صرف ترقی پذیر ممالک ہی نہیں، بلکہ چین، یورپی یونین (EU) اور جاپان جیسے بڑے معاشی کھلاڑی بھی آئے۔ امریکی رپورٹ کے مطابق، دنیا کے 54 ممالک ایسے پائے گئے جو جبری مشقت سے بنی اشیاء کی درآمد پر اپنے ہاں سرے سے پابندی نافذ کرنے میں ہی مکمل ناکام رہے۔ پاکستان سمیت 6 ممالک ایسے پائے گئے جہاں جبری مشقت کے حوالے سے قوانین یا پابندیاں تو موجود ہیں، لیکن ان پر مؤثر طریقے سے عملدرآمد (Enforcement) نہیں کروایا جا رہا۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے اس حوالے سے ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت جیسے حساس اور سنگین مسئلے کو مسلسل نظر انداز کرنا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔ ان کے بقول، اس غفلت اور سستی کی وجہ سے مارکیٹ میں سستی اشیاء پہنچتی ہیں، جس سے امریکی ورکرز کو ایک غیر منصفانہ معاشی مقابلے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یو ایس ٹی آر (USTR) کی رپورٹ کے مطابق، مجوزہ ٹیرف پلان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

زمرہ / ممالک مجوزہ اضافی ڈیوٹی (Tariff)
پاکستان سمیت چند مخصوص ممالک 10% اضافی ڈیوٹی
باقی دیگر 45 ممالک 12.5% تک ٹیرف

امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس سخت تادیبی اقدام کے دوران کچھ مخصوص اشیاء کو ٹیرف سے استثنیٰ حاصل رہے گا، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

  1. بیف (بڑے کا گوشت)

  2. کافی

  3. بعض مخصوص پھل اور خشک میوہ جات (ڈرائی فروٹس)

  4. شمالی امریکہ کے تجارتی معاہدے کے تحت کینیڈا اور میکسیکو سے آنے والی مخصوص مصنوعات

امریکی حکومت نے اس مجوزہ پالیسی پر عوام اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات طلب کر لیے ہیں۔ اس ڈیڈ لائن کے بعد باقاعدہ سماعتوں (Hearings) کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے بعد ہی ٹیرف کے نفاذ کا حتمی اور باضابطہ اعلان ہوگا۔

یہ اہم ترین پیش رفت ایک ایسے منفرد پس منظر میں سامنے آئی ہے جب نومبر 2024 میں دوبارہ منتخب ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ماضی میں عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف آئندہ 24 جولائی کو ختم ہونے والا ہے۔ ٹرمپ کے اس عارضی ٹیرف کو امریکی سپریم کورٹ نے پہلے ایک قانونی چیلنج کے بعد تکنیکی بنیادوں پر کالعدم قرار دے دیا تھا۔