پنجاب: پرائیویٹ جنریٹرز اور سولر پاور پر الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز منظور
Web Desk
1 June 2026
لاہور: پنجاب کابینہ نے صوبے میں توانائی کے شعبے اور نجی بجلی کی پیداوار کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک اہم ترین اقدام اٹھاتے ہوئے ‘پنجاب الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2026’ کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔
اس نئے مانیٹرنگ اور ٹیکس فریم ورک کے تحت پنجاب میں نجی جنریٹرز اور سولر پاور سسٹمز پر نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کرنے کا مینوفیکچرنگ اور ریکوری پلان تیار کر لیا گیا ہے۔ کابینہ نے 500 کے وی اے (KVA) سے زائد صلاحیت کے نجی جنریٹرز اور کمرشل سولر سسٹمز کو ٹیکس اور ڈیوٹی نیٹ کے دائرے میں لانے کی منظوری دی ہے۔
نئے منظور شدہ قوانین کے مطابق صوبائی حکومت کو کروڑوں روپے کی اضافی آمدنی ہوگی:
-
ڈیوٹی کی شرح: صنعتی اور کمرشل صارفین کی جانب سے کی جانے والی سیلف جنریشن (خود ساختہ بجلی) پر 4 پیسہ فی یونٹ الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔
-
گھریلو صارفین کو ریلیف: عام شہریوں اور گھریلو صارفین پر بوجھ نہ ڈالنے کے لیے انہیں اس نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی سے مکمل طور پر مستثنیٰ (Exempted) رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
-
سرکاری خزانے کو فائدہ: اس نئے ڈیوٹی فریم ورک کے نفاذ سے پنجاب حکومت کو سالانہ 30 کروڑ 60 لاکھ روپے کی اضافی آمدن حاصل ہونے کا امکان ہے۔
-
متاثرہ مقامات: ان رولز کے ابتدائی نفاذ کے تحت صوبے بھر کے 1 ہزار 177 صنعتی و کمرشل مقامات اس نئی ڈیوٹی کے دائرہ کار میں آئیں گے۔
پنجاب حکومت نے نئے قوانین کے تحت الیکٹرک انسپکٹرز کو غیر معمولی اختیارات دینے کی منظوری دی ہے تاکہ ڈیوٹی کی چوری اور غلط بیانی کو روکا جا سکے:
-
پاور پلانٹ سیل کرنے کا اختیار: ڈیوٹی ادا نہ کرنے یا قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں الیکٹرک انسپکٹر کو متعلقہ نجی پاور جنریشن سہولت (پلانٹ یا سسٹم) کو موقع پر سیل کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہوگا۔
-
ریکارڈ کی جانچ اور رجسٹریشن: الیکٹرک انسپکٹر کو نجی پاور پلانٹس کا تمام ریکارڈ چیک کرنے کے اختیارات دیے گئے ہیں، جبکہ نجی پاور جنریشن رکھنے والوں کے لیے اپنے سسٹمز کی رجسٹریشن کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
-
ریکوری کا طریقہ کار: جو نجی مالکان ڈیوٹی جمع نہیں کرائیں گے، ان سے واجبات کی وصولی سخت ‘لینڈ ریونیو ایکٹ’ کے تحت سرکاری بقایا جات کے طور پر کی جائے گی۔
صنعتی اور تجارتی اداروں کے لیے اب اپنے بجلی پیدا کرنے والے سسٹمز کا مکمل حساب کتاب رکھنا ہوگا:
-
علیحدہ میٹر کا نفاذ: صنعتی و کمرشل سیلف جنریشن یونٹس کے لیے اب ایک علیحدہ ’انرجی میٹر‘ لگانا قانونی طور پر لازم ہوگا۔
-
کمرشل سولر کا ریکارڈ: سولر سسٹمز سمیت تمام بڑے سیلف جنریشن سسٹمز کا مکمل ڈیٹا اور ریکارڈ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
-
ماہانہ ریٹرنز: تمام متعلقہ اداروں کے لیے اپنے سسٹمز کے ماہانہ ریٹرنز اور لاگ بکس (Log Books) جمع کرانا لازمی ہوگا۔
-
لیٹ پےمنٹ پینلٹی: مقررہ وقت پر ڈیوٹی جمع نہ کرانے کی صورت میں 10 سے 15 فیصد تک لیٹ پےمنٹ جرمانہ (Penalty) عائد کیا جائے گا۔
رولز کے مطابق، مانیٹرنگ کے دوران کسی بھی نجی پلانٹ کا غلط ریکارڈ فراہم کرنے پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا اور اس کی بجلی کی پیداوار کو فوری طور پر بند کرانے کی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے گی۔
واضح رہے کہ اس نئے فریم ورک کو مانیٹرنگ نظام کو جدید بنانے کے لیے نافذ کیا گیا ہے، جس کے لیے پنجاب حکومت نے پرانے یعنی 2012 کے الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز کو باقاعدہ ختم کر کے اب نئے ‘پنجاب الیکٹرسٹی ڈیوٹی رولز 2026’ لاگو کرنے کی حتمی منظوری دی ہے۔
متعلقہ عنوانات
بانی پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کرتے، تین سال قید کاٹ لی، بیرسٹر گوہر
24 August 2026
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے
24 August 2026
پنجاب بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد
24 August 2026
پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز
24 August 2026
ایران پر نئی پابندیوں سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں
24 August 2026
21 سابق کرکٹ کپتانوں کا وزیراعظم کو خط، عمران خان کیلئے طبی سہولیات کا مطالبہ
24 August 2026
خلا سے زمین کا سحر انگیز منظر، خلاباز نے رقص کرتی سبز روشنیاں شیئر کردیں
24 August 2026
ایران کے خلاف فیصلہ کن اقتصادی کارروائی آج شروع کی جائے گی: امریکی وزیرِ خزانہ
24 August 2026