LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر: مشترکہ اعلامیے میں “چین پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ” کے قیام بڑی کامیابی توحید ہے، اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، خطبہ حج امریکا کو خطے میں مزید اڈے قائم کرنے کا موقع نہیں ملے گا: مجتبیٰ خامنہ ای پنجاب میں عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران شدید ہیٹ ویو کا خدشہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سرکاری دورے پر نیویارک پہنچ گئے مریم نواز کی اے آئی آئی بی کو ڈویلپمنٹ پراجیکٹ میں شراکت داری کی پیشکش پاکستان اور چین کا تزویراتی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن، قطر میں بات ہوئی ہے: امریکی وزیر خارجہ چین دنیا کیلئے قابل تقلید ماڈل، معاشی طاقت میں کوئی ثانی نہیں: وزیراعظم وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ وزیراعظم کی چینی وفود سے ملاقاتیں، اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کا عزم لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا ملک بھر میں بوہری برادری آج عیدالاضحیٰ مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے ایران میں صدر مسعود پزشکیان کی ہدایت پر انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ

رنگین پلاسٹک کے باریک ذرات سے متعلق ہوشرُبا انکشاف!

Web Desk

26 May 2026

ماحولاتی آلودگی اور زمین کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت (Global Warming) کے حوالے سے مئی 2026 میں ایک انتہائی تشویشناک اور ہولناک سائنسی انکشاف سامنے آیا ہے۔ نئی عالمی تحقیق کے مطابق، فضا میں تیرتے ہوئے رنگین پلاسٹک کے باریک ذرات (Microplastics) سورج کی روشنی اور تپش کو سائنس دانوں کے سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ جذب کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں انسانوں کی پیدا کردہ گلوبل وارمنگ کی شدت میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

معروف سائنسی جرنل ’نیچر کلائمیٹ چینج‘ (Nature Climate Change) میں شائع ہونے والی اس جدید تحقیق کے مطابق، ہوا میں معلق مائیکرو پلاسٹکس اور نینو پلاسٹکس—بالخصوص مختلف رنگوں کے حامل ذرات—زمین کے درجہ حرارت کو براہِ راست متاثر کرنے اور اسے بڑھانے کی واضح صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، محققین نے لیبارٹری اور فضائی تجزیوں کے بعد درج ذیل اہم حقائق دریافت کیے ہیں:

  • چھٹا بڑا خطرہ: فضا میں موجود پلاسٹک کے یہ باریک ترین ذرات ماحولیاتی آلودگی کے بدترین عنصر ’بلیک کاربن‘ (کاجل/سُوٹ) سے پیدا ہونے والی گرمی کے تقریباً چھٹے حصے ($1/6$) کے برابر اثر ڈال رہے ہیں۔

  • 75 گنا زیادہ تپش: تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کا ‘رنگ’ گرمی جذب کرنے میں سب سے اہم عنصر ہے۔ جہاں سفید رنگ کے ذرات سورج کی روشنی کو واپس فضا میں بکھیر (Reflect) دیتے ہیں، وہاں گہرے رنگ کے پلاسٹک سورج کی شعاعوں کو اپنے اندر قید کر لیتے ہیں۔ یہ رنگین ذرات بے رنگ (Transparent) پلاسٹک کے مقابلے میں 75 گنا زیادہ حرارت جذب کرتے ہیں۔

مائیکرو پلاسٹکس اس سے قبل پینے کے صاف پانی، سمندری مخلوق، انسانی خون و اعضاء اور یہاں تک کہ دنیا کے سرد ترین خطے اینٹارکٹیکا کی برف میں بھی دریافت ہو چکے ہیں۔ تاہم، اس نئی تحقیق نے دنیا کو ایک نئے خطرے سے آگاہ کیا ہے کہ پلاسٹک اب صرف زمین اور پانی کو گندا نہیں کر رہا، بلکہ یہ کرہِ ارض کے حفاظتی فضائی غلاف کو ایک ‘تھرمل کمبل’ میں تبدیل کر رہا ہے۔

یہ دریافت پاکستان سمیت دنیا کے ان خطوں اور ممالک کے لیے ایک انتہائی ہولناک خبر ہے جو پہلے ہی شدید ترین ہیٹ ویوز (Heatwaves)، گلیشیئرز پگھلنے، اور موسمیاتی تباہ کاریوں کی زد میں ہیں۔

ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ فضا میں پلاسٹک کی وجہ سے درجہ حرارت میں ہونے والا یہ معمولی سا اضافہ بھی انسانی صحت، زراعت، پانی کے گرتے ہوئے ذخائر اور رہائشی ماحول کو ناقابلِ برداشت بنا سکتا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر پلاسٹک کی پیداوار اور فضائی آلودگی پر قابو پانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔