لبیک اللھم لبیک! حج کا رکن اعظم ’’وقوف عرفہ‘‘ آج ادا کیا جائے گا
Web Desk
26 May 2026
سعودی عرب میں حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں مسلمانوں کے مناسک کا سلسلہ پوری ایمانی آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ عازمینِ حج آج 9 ذوالحجہ کو حج کا سب سے بڑا اور بنیادی رکنِ اعظم ’وقوفِ عرفہ‘ ادا کرنے کے لیے جوق در جوق میدانِ عرفات روانہ ہو رہے ہیں۔
اس سے قبل حج کے پہلے مرحلے (یوم الترویہ) میں حجاج کرام مکہ مکرمہ سے منیٰ کی خیمہ بستی پہنچے تھے، جہاں انہوں نے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں۔ عازمین نے رات بھر منیٰ میں قیام کیا، جہاں ہر طرف روح پرور مناظر دیکھے گئے اور پوری وادی ”لبیک اللّٰھم لبیک“ کی ایمان افروز صداؤں سے گونجتی رہی۔ حجاج نے رات بھر تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار اور خصوصی دعاؤں میں وقت گزارا۔
حج کے بقیہ دنوں میں حجاج کرام کو مندرجہ ذیل مراحل اور مناسک سے گزرنا ہوگا
| تاریخ اور دن | منسک / شرعی فریضہ | تفصیلات اور اہم مقامات |
| 9 ذوالحجہ (آج) | وقوفِ عرفہ اور مزدلفہ روانگی | میدانِ عرفات میں جمع ہونا، مسجدِ نمرہ سے خطبہِ حج سننا، ظہر و عصر کی نمازیں قصر ملا کر ادا کرنا۔ غروبِ آفتاب تک توبہ و استغفار اور پھر مغرب کی نماز پڑھے بغیر مزدلفہ روانگی۔ |
| 9 ذوالحجہ (رات) | مزدلفہ میں قیام | رات کھلے آسمان تلے مزدلفہ میں گزارنا، مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا اور جمرات (شیطانوں) کو مارنے کے لیے کنکریاں چُننا۔ |
| 10 ذوالحجہ | رمی، قربانی اور طوافِ زیارت | صبح سویرے دوبارہ منیٰ آمد، بڑے شیطان کو کنکریاں مارنا (رمی)، قربانی کرنا، حلق یا قصر (بال کٹوانا)، احرام کھولنا اور مکہ مکرمہ جا کر طوافِ زیارت مکمل کر کے واپس منیٰ لوٹنا۔ |
| 11 اور 12 ذوالحجہ | رمی کا تسلسل اور اختتام | منیٰ میں قیام کے دوران بقیہ دونوں دن تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنا اور 12 ذوالحجہ کو غروبِ آفتاب سے قبل منیٰ سے رخصت ہونا۔ |
سعودی وزارتِ حج و عمرہ اور متعلقہ انتظامی اداروں نے رواں سال حج کے دوران شدید گرمی، تپش اور گرد و غبار کے ممکنہ طوفان کے خدشات کو مدِنظر رکھتے ہوئے زائرین کے لیے غیر معمولی اور جدید ترین انتظامات کیے ہیں:
میدانِ عرفات اور اس کے اطراف کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری کی گئی ہے اور سائے کے لیے خصوصی شیڈز بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فیلڈ میں ایسے جدید کولنگ فینز (Cooling Fans) نصب ہیں جو ہوا کے ساتھ پانی کی باریک پھوار (Mist) چھوڑتے ہیں، جس سے ماحول کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوتی ہے۔ عازمینِ حج، خصوصاً بوڑھے اور بیمار حجاج کی سہولت کے لیے پیدل چلنے والے راستوں پر ایک خاص قسم کا لچکدار مٹیریل (Elastic/Cushioned Material) استعمال کیا گیا ہے، جو پاؤں کے دباؤ کو جذب کر لیتا ہے اور طویل مسافت کے باوجود پیدل چلنے والوں کو تھکن کا احساس بہت کم ہوتا ہے۔
سعودی سیکیورٹی فورسز، میڈیکل ٹیمیں اور رضاکار لاکھوں کے اس انسانی سمندر کی رہنمائی اور طبی امداد کے لیے میدانِ عرفات کی شاہراہوں پر ہائی الرٹ ہیں۔
متعلقہ عنوانات
ریاست امن و امان برقرار رکھنے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے گی: محسن نقوی
28 August 2026
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
28 August 2026
وزیراعظم کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ تیار، پمز ہسپتال کے افسران و سٹاف کی غفلت ثابت
28 August 2026
افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان فریڈم فرنٹ کا محاذ متحرک
28 August 2026
مریم نواز کا نیپال میں سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس
28 August 2026
ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات، ملکی بندرگاہوں کی بہتری میں اہم پیشرفت
28 August 2026
مودی حکومت کی ہٹ دھرمی برقرار، بھارتی نوجوان ایک مرتبہ پھر احتجاج پر مجبور
28 August 2026
ایران کی ترکیہ میں امریکی صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کے منصوبے کی تردید
28 August 2026