LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر

وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ، سیکریٹ سروس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور ہلاک

Web Desk

24 May 2026

امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جہاں سیکریٹ سروس کی جوابی کارروائی میں مسلح حملہ آور ہلاک ہو گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق واقعہ وائٹ ہاؤس کے قریب چیک پوسٹ پر پیش آیا، جہاں تعینات اہلکاروں پر ایک مسلح شخص نے پستول سے فائرنگ کر دی۔

رپورٹس کے مطابق حملہ آور کی شناخت اکیس سالہ نصیر بیسٹ کے نام سے ہوئی، جس کا تعلق ریاست میری لینڈ سے بتایا جا رہا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور ذہنی اور جذباتی دباؤ کا شکار تھا اور خود کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھتا تھا۔

فائرنگ کے تبادلے میں ایک راہگیر بھی ہلاک ہوا جبکہ حملہ آور وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخل نہ ہو سکا۔

واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے کے قریب پیش آیا، اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے۔ فائرنگ کے بعد کچھ دیر کے لیے عمارت کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا جبکہ سیکریٹ سروس نے صدر کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

عینی شاہدین اور صحافیوں کے مطابق واقعے کے دوران درجنوں گولیوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ وائٹ ہاؤس کی چھت پر نشانہ باز اہلکار تعینات کر دیے گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خاتون صحافی ایران اور امریکا کے مجوزہ معاہدے پر براہِ راست رپورٹنگ کر رہی تھیں کہ اسی دوران فائرنگ شروع ہوگئی، جس کے بعد وہ خوفزدہ ہو کر محفوظ مقام کی جانب منتقل ہوتی دکھائی دیں۔

بعد ازاں سیکریٹ سروس نے صورتحال کو قابو میں لے کر لاک ڈاؤن ختم کر دیا۔