LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے نجی شعبے کو بھی آگے آنا ہوگا: ہارون اختر خان معروف کوہ پیما سید علی شاہ کی میت 31 دن بعد فلک سیر کی چوٹی سے تلاش کرلی گئی آر ایل این جی کی عدم دستیابی سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی: پاور ڈویژن پاکستان کو دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت اور جی 20 کا حصہ بنانا ہدف ہے: اسحاق ڈار پمز میں 14 بچوں کی ہلاکت ہمارے نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے: مصدق ملک کسی نے ہمیں دھرنے سے اٹھانے کی کوشش کی تو وہ اپنا شوق پورا کرلے: حافظ نعیم علی پرویز ملک کی او آئی سی سی آئی اور پی ایس او قیادت سے الگ الگ ملاقاتیں عوام کو جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام سے منسلک کرنا ترجیح ہے: شزا فاطمہ محسن نقوی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن سسٹم ڈاؤن ہونے پر فوری ہدایت پاکستان چین دوستی کو ڈیٹا، ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل کرنا چاہتے ہیں: مریم نواز سہیل آفریدی کی آیت نور کے گھر آمد، ملزمان کو کڑی سزا دینے کی یقین دہانی نیپال و تبت میں سیلاب سے ہلاکتیں 626 ہو گئیں، 2000 سے زیادہ افراد تاحال لاپتہ ڈی آئی جی ساؤتھ کا ڈیفنس میں خواتین کے جھگڑے کی وائرل ویڈیو پر انکوائری کا فیصلہ امریکی پابندیوں کے تسلسل سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے: ایرانی صدر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا

کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو پر 1996 کے طیارہ حادثے کے کیس میں امریکا نے فردِ جرم لگا دی

Web Desk

20 May 2026

امریکا نے 1996 میں دو سویلین طیاروں کو مار گرائے جانے کے واقعے سے متعلق کیوبا کے سابق صدر اور سابق وزیر دفاع راول کاسترو پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق راول کاسترو پر امریکی شہریوں کے قتل کی سازش، طیاروں کی تباہی اور چار افراد کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر 94 سالہ راول کاسترو پر یہ الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ مقدمہ اس واقعے سے متعلق ہے جب 1996 میں کیوبا کی فضائیہ نے جلا وطن کیوبن تنظیم کے دو چھوٹے طیارے مار گرائے تھے، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس وقت راول کاسترو کیوبا کے وزیر دفاع جبکہ ان کے بھائی فیدل کاسترو ملک کے صدر تھے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی کی منظوری وزارت دفاع کی سطح پر دی گئی تھی۔

بعد ازاں امریکی حکام کی جانب سے کیوبا کے متعدد دورے بھی کیے گئے جبکہ یہ مقدمہ طویل عرصے بعد دوبارہ کھولا گیا ہے۔