LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یو اے ای میں ‘ویزا آن ارائیول’ کی شرائط تبدیل، کیا اب آپ اہل ہیں؟ انسانی سمگلنگ کیخلاف 59 ممالک میں عالمی کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد ملزم گرفتار اسرائیل کا امریکا سے ترکیہ کو ایف 35 جنگی طیارے اور پرزے فروخت نہ کرنے کا مطالبہ دہشتگردی کا مقابلہ جاری، ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی: سرفراز بگٹی این ڈی ایم اے کا دریاؤں میں طغیانی اور مقامی سیلاب کا الرٹ جاری امریکہ میں شدید بارشوں کی تباہ کاری، نیو جرسی میں ہول سیل اسٹور کی چھت گر گئی، نیویارک سمیت کئی علاقوں میں طوفانی سیلاب کی وارننگ نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی

کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو پر 1996 کے طیارہ حادثے کے کیس میں امریکا نے فردِ جرم لگا دی

Web Desk

20 May 2026

امریکا نے 1996 میں دو سویلین طیاروں کو مار گرائے جانے کے واقعے سے متعلق کیوبا کے سابق صدر اور سابق وزیر دفاع راول کاسترو پر فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق راول کاسترو پر امریکی شہریوں کے قتل کی سازش، طیاروں کی تباہی اور چار افراد کے قتل کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر 94 سالہ راول کاسترو پر یہ الزامات ثابت ہو گئے تو انہیں عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ مقدمہ اس واقعے سے متعلق ہے جب 1996 میں کیوبا کی فضائیہ نے جلا وطن کیوبن تنظیم کے دو چھوٹے طیارے مار گرائے تھے، جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس وقت راول کاسترو کیوبا کے وزیر دفاع جبکہ ان کے بھائی فیدل کاسترو ملک کے صدر تھے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کارروائی کی منظوری وزارت دفاع کی سطح پر دی گئی تھی۔

بعد ازاں امریکی حکام کی جانب سے کیوبا کے متعدد دورے بھی کیے گئے جبکہ یہ مقدمہ طویل عرصے بعد دوبارہ کھولا گیا ہے۔