LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

یو اے ای میں نیوکلیئر پلانٹ پر ڈرون حملے، حفاظتی نظام فعال، تحقیقات جاری

Web Desk

17 May 2026

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کے قریب آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، تاہم حکام کے مطابق صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔

الظفرہ ریجن میں واقع براکہ پاور پلانٹ کے ایک بیرونی الیکٹریکل جنریٹر کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا جس کے بعد آگ لگ گئی، تاہم فوری کارروائی سے آگ پر قابو پا لیا گیا۔

فیڈرل اتھارٹی فار نیوکلیئر ریگولیشن (ایف اے این آر) کے مطابق واقعے سے جوہری پلانٹ کے مرکزی نظام یا حفاظتی ڈھانچے پر کوئی اثر نہیں پڑا اور تمام یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

دوسری جانب یو اے ای وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ملک کے دفاعی نظام نے تین ڈرونز کو ٹریک کیا، جن میں سے دو کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ ایک ڈرون براکہ کے قریب جنریٹر سے ٹکرا گیا۔

وزارت دفاع کے مطابق حملوں کے مقام اور ذمہ داران کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور مکمل رپورٹ بعد میں جاری کی جائے گی۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ شہری صرف سرکاری اطلاعات پر اعتماد کریں اور کسی بھی قسم کی افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں کو پھیلانے سے اجتناب کریں۔

اماراتی حکام نے کہا ہے کہ ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے دفاعی نظام مکمل طور پر الرٹ ہے اور ہر ممکن خطرے کا فوری جواب دیا جائے گا۔