LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مسلح افواج علاقائی سالمیت اور آزادی کا بھرپور دفاع کریں گی، ایرانی آرمی چیف  ایران کے جوہری پروگرام 20سال کےلیے معطل کرنے پر اعتراض نہیں، امریکی صدر سیاسی صف بندی؛ پیر پگارا اور مولانا فضل الرحمان کی ملاقات، سندھ میں حکومت مخالف تحریک پر مشاورت پنکی کے 869 موبائل نمبرز، افریقی شہری بھی منشیات فروشی میں ملوث ہیں: ایڈیشنل آئی جی سندھ امریکہ سنجیدگی دکھائے، جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں: عراقچی بشریٰ بی بی، عمران خان دونوں کو بہترین علاج مہیا کیا جا رہا ہے: رانا ثناء اللّٰہ ٹرمپ کے بعد روسی صدر کا بھی چین کا دورہ کرنے کا فیصلہ وزیراعظم سے چین کے کاروباری وفد کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر اظہار اطمینان محسن نقوی کی امریکی نائب وزیر خارجہ سے ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق ایران کے خلاف فوجی راستہ مکمل ناکام، عزت دیں، عزت لیں: عباس عراقچی امریکی ناکا بندی سے کیوبا میں پٹرول ختم، کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے 190 ملین پاؤنڈ کیس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا کو دلائل دینے کیلئے مہلت چینی صدر سے دوبارہ ملاقات، تجارتی معاہدے، آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہئے: ٹرمپ ایران کیخلاف جنگ کا کوئی جواز نہیں، بحری راستے جلد کھلنے چاہئیں: چین دسمبر 2026 تک سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے کا فیصلہ

افغانستان میں 18 ہزار سے 23 ہزار کے درمیان دہشت گرد موجود ہیں: روس

Web Desk

15 May 2026

شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سلامتی کونسل سیکرٹریوں کے 21ویں اجلاس میں روس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ نے خطے میں سیکیورٹی کی بدلتی ہوئی صورتحال پر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ سرگئی شوئیگو کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان اب بھی بین الاقوامی انتہا پسندی کا گڑھ بنا ہوا ہے۔
روسی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں انتہا پسندوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ تشویشناک ہے:18,000 سے 23,000 مسلح جنگجو۔ 20 سے زائد شدت پسند تنظیمیں متحرک ہیں۔ 3,000 جنگجوؤں کے ساتھ اس گروہ نے 2025 میں 12 بڑے حملے کر کے اپنی موجودگی کا مہلک ثبوت دیا ہے۔ شام سے تاجک، ازبک اور ایغور جنگجوؤں کی افغانستان آمد نے اسے “علاقائی عسکریت پسندی کا مرکز” بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں طالبان کی کارکردگی کا متوازن جائزہ پیش کیا گیا ہے طالبان داعش کے خلاف نبرد آزما ہیں اور پوست کی کاشت میں 90 فیصد کمی لانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ طالبان کی تمام تر کوششوں کے باوجود کئی گروہ اب بھی ان کے کنٹرول سے باہر ہیں، جس سے ان کی حکومتی عملداری پر سوالیہ نشان اٹھتا ہے۔
افغانستان میں منشیات کا مسئلہ ختم ہونے کے بجائے تبدیل ہو گیا ہےپوست (Opium) کی جگہ اب مصنوعی منشیات (Synthetic Drugs)، بالخصوص میتھ ایمفیٹامین نے لے لی ہے۔سال 2025 میں سرحدوں پر 30 ٹن مصنوعی منشیات کی برآمدگی اس خطرناک تجارت کے پھیلاؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ 40 لاکھ افراد اب بھی اس شعبے سے وابستہ ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ متبادل معاش کے بغیر اس لعنت کا خاتمہ ناممکن ہے۔
سرگئی شوئیگو نے مغربی ممالک کی پالیسیوں کو عالمی معاشی عدم استحکام کی وجہ قرار دیا: 590 ارب ڈالر کے اثاثوں کا منجمد ہونا دیگر ممالک کے لیے “ریڈ لائن” بن چکا ہے۔
روسی موقف کے مطابق، یہ اقدام دنیا کو مغربی مالیاتی نظام سے دور کرنے اور متبادل ذخائر تلاش کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔