LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

رات کی نوکری صحت پر بھاری! نئی تحقیق میں خطرناک اثرات سامنے آگئے

Web Desk

17 April 2026

حالیہ سائنسی تحقیقات نے رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد کی صحت کے حوالے سے انتہائی تشویشناک حقائق سامنے لائے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، وہ افراد جو رات کے اوقات میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، ان میں ذیابیطس، امراضِ قلب، کولیسٹرول کی زیادتی اور ہارمونز کے بگاڑ کے خطرات دن میں کام کرنے والوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کا ایک قدرتی حیاتیاتی نظام ہوتا ہے جسے ‘سرکیڈین ردھم’ (Circadian Rhythm) کہا جاتا ہے۔ یہ نظام سونے جاگنے کے اوقات اور ہارمونز کے اخراج کو کنٹرول کرتا ہے۔ رات کو جاگنے اور دن کو سونے سے اس فطری نظام میں خلل پڑتا ہے، جس کے دور رس منفی اثرات صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، رات کی شفٹ میں کام کرنے والے 77 فیصد افراد ‘انسولین مزاحمت’ کا شکار پائے گئے، جو ٹائپ 2 ذیابیطس کی بنیادی وجہ بنتی ہے، جبکہ دن میں کام کرنے والوں میں یہ شرح 62 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

کولیسٹرول اور ہارمونز کے حوالے سے بھی ڈیٹا چونکا دینے والا ہے۔ رات کے کارکنوں میں نقصان دہ کولیسٹرول (ٹرائی گلیسرائیڈز) کی سطح زیادہ اور دل کے لیے مفید کولیسٹرول (ایچ ڈی ایل) کی سطح کم دیکھی گئی۔ مزید برآں، مردوں میں ٹیسٹو اسٹیرون کی کمی اور خواتین میں ایسٹروجن کی غیر معمولی زیادتی جیسے ہارمونل مسائل بھی سامنے آئے ہیں، جو مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔