LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف

ایرانی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب بھی آئے تو تباہ کر دیں گے: ٹرمپ

Web Desk

13 April 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے جارحانہ تیور برقرار رکھتے ہوئے سخت وارننگ دی ہے کہ اگر کوئی بھی ایرانی جہاز امریکی ناکہ بندی کے قریب آنے کی کوشش کرے گا تو اسے فوری طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کا بڑا حصہ پہلے ہی سمندر کی تہہ میں جا چکا ہے اور اب تک ایران کے 158 بحری بیڑے مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کا ہدف صرف چند چھوٹے جہاز نہیں بلکہ پوری بحری قوت کو مفلوج کرنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی ‘فاسٹ اٹیک شپس’ کو کم تر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان چھوٹی کشتیوں سے امریکی بحریہ کو کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی عسکری کارروائیوں کا موازنہ منشیات کے خلاف آپریشنز سے کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسی طریقے سے کارروائی کر رہے ہیں جس طرح سمندر میں منشیات اسمگل کرنے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی نہ صرف تیز ہے بلکہ انتہائی سخت بھی ہے تاکہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکے۔

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے امریکہ کی سرحدی حفاظت اور انسدادِ منشیات کی مہم کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے سمندر کے ذریعے امریکہ میں داخل ہونے والی 98.2 فیصد منشیات کو کامیابی سے روک دیا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے طاقت کا بھرپور استعمال جاری رہے گا۔ دوسری جانب، عسکری مبصرین کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ان بیانات سے خلیج میں براہِ راست فوجی تصادم کا خطرہ شدت اختیار کر گیا ہے۔