LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران سے مذاکرات کے بارےمیں صرف میں اورچند لوگ ہی آگاہ ہیں، امریکی صدر جنگ میں ہونے والے نقصان کا ہرجانہ دیاجائے، ایران کا عرب ممالک سے مطالبہ ایران سے جنگ جاری رہے گی یا نہیں؟ اب فیصلہ ٹرمپ کے بجائے کانگریس کرے گی امریکاکو جنگ میں 100ارب ڈالر کا نقصان ہوچکاہے، ایرانی وزیرخارجہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی مذاکرات کےلیےنئی تجاویز پاکستان کے حوالے کردیں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس؛ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی بنا دی وفاق نے خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا ہوا، اب مزید نہیں چلے گا: سہیل آفریدی قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے ، طلال چوہدری یوم مزدور کو تقریبات، خبروں کا سلسلہ بنا کر ختم کر دیا جاتا: حافظ نعیم ملک سے لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ؛ ایل این جی موصول ہوتے ہی بجلی کی فراہمی معمول پر آگئی، اویس لغاری احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ؛ ملک ریاض اور ان کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط پاکستان جنوبی کوریا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق پاک ایران فضائی سفر 60 دن بعد بحال، تہران اسلام آباد کی پروازیں شروع وزیر داخلہ محسن نقوی کا پاکستان سمیت دنیا بھر کے محنت کشوں کو سلام

معاشی محاذ پر بڑی کامیابی: پاکستان نے 1.43 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیاں وقت سے پہلے مکمل کر لیں

Web Desk

8 April 2026

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی بانڈز کی مد میں 1.43 ارب ڈالر کی اہم بیرونی ادائیگیاں کامیابی سے مکمل کر لی ہیں۔ مرکزی بینک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ ادائیگیاں 8 اپریل کو واجب الادا تھیں، تاہم پاکستان نے اپنی مالیاتی ذمہ داریوں کا ثبوت دیتے ہوئے یہ رقم ایک روز قبل یعنی 7 اپریل کو ہی ادا کر دی ہے۔ اس ادائیگی میں 1 ارب 30 کروڑ ڈالر بطور اصل زر (Principal Amount) شامل ہیں، جبکہ 14 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سود کی مد میں ادا کیے گئے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق، مقررہ وقت سے پہلے اتنی بڑی رقم کی ادائیگی عالمی منڈیوں اور مالیاتی اداروں میں پاکستان کے ساکھ کو مزید مستحکم کرے گی اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی قرضوں کے انتظام کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اس اقدام کو ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی اور ڈیفالٹ کے خطرات کے مکمل خاتمے کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔