LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے امریکا کا تجارتی جہاز پر قبضہ،ایران نے اقوام متحدہ میں شکایت درج کروا دی عالمی سفارت کاری کا مرکز اسلام آباد: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے ریڈ زون سیل سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو مزید 1 ارب ڈالر کے فنڈز موصول پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر تیزی کا رجحان خیبرپختونخوا کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس ملتوی ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیار ڈالنے میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں: باقر قالیباف ایران سے ہونے والا معاہدہ جلد اور اوباما دور کے معاہدے سے بہتر ہوگا: امریکی صدر اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن مذاکرات جمعرات کو واشنگٹن میں ہوں گے ریڈ زون کے اداروں میں 21 اپریل کو ورک فرام ہوم کا فیصلہ : نوٹیفکیشن جاری ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی

نیتن یاہو نے کلنٹن، اوباما، بش اور بائیڈن سے ایران پر حملے کی درخواستیں کیں: سابق وائٹ ہاؤس چیف

Web Desk

4 April 2026

واشنگٹن: سابق وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف راہم ایمینوئل نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے صدر بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما اور اب جو بائیڈن سے مسلسل یہ مطالبہ کیا کہ ایران کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کی جائے۔ ایمینوئل کے مطابق، ان تمام صدور نے نیتن یاہو کی درخواستوں پر جنگ کے خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا، لیکن ہر بار یہ نتیجہ نکلا کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ امریکی قومی مفاد میں نہیں ہے۔

راہم ایمینوئل نے امریکی نظامِ حکومت اور کمانڈر ان چیف کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاتا ہے اور وہی فوجیوں کی جانوں کا حتمی فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ انہوں نے حالیہ کشیدگی میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک جذباتی مثال دی کہ “اب دو بچوں کے باپ، جن کے 7 ماہ کے جڑواں بچے ہیں، کبھی اپنے والد کو نہیں دیکھ سکیں گے اور ان کے گھر میں ایک کرسی ہمیشہ خالی رہے گی”۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کا فیصلہ صدر کا ہوتا ہے، اس لیے کسی دوسرے ملک یا شخصیت کو موردِ الزام ٹھہرانا بے معنی ہے۔