LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت ایرانی صدر کا جارح قوتوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان شہباز شریف سے ممتاز صنعت کاروں اور کاروباری شخصیات کے وفد کی ملاقات اسلام آباد جوڈیشل سروس رولز 2011 میں ترمیم منظور، ججز کے تبادلوں کی راہ ہموار قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ موبائل ایپلی کیشن کا افتتاح کر دیا حوثیوں کے حملے قابلِ مذمت، پاکستان سعودیہ کی حمایت جاری رکھے گا: وزیراعظم سندھ اسمبلی: جماعت اسلامی کی لیوی ٹیکس ختم کرنے کی قرارداد منظور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ؛ پاکستانی ٹیک سیکٹر کی عالمی منڈیوں تک رسائی ٹرمپ کی ایران سے جنگ جیتنے پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی اڈیالہ جیل کے 3 قیدیوں کا عمران خان جیسی طبی سہولیات کیلئے آئینی عدالت سے رجوع اقوامِ متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے دیا 27 ستمبر احتجاج کیس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ بنانے کا فیصلہ اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے پر نیا ٹیکس لگانے کی تجاویز تیار یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی شہروں پر حملے، 73 افراد زخمی ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر نان اسٹاپ اے آئی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کر ڈالیں

نیتن یاہو نے کلنٹن، اوباما، بش اور بائیڈن سے ایران پر حملے کی درخواستیں کیں: سابق وائٹ ہاؤس چیف

Web Desk

4 April 2026

واشنگٹن: سابق وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف راہم ایمینوئل نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے صدر بل کلنٹن، جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما اور اب جو بائیڈن سے مسلسل یہ مطالبہ کیا کہ ایران کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کی جائے۔ ایمینوئل کے مطابق، ان تمام صدور نے نیتن یاہو کی درخواستوں پر جنگ کے خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا، لیکن ہر بار یہ نتیجہ نکلا کہ ایران کے ساتھ براہِ راست جنگ امریکی قومی مفاد میں نہیں ہے۔

راہم ایمینوئل نے امریکی نظامِ حکومت اور کمانڈر ان چیف کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر بائبل پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاتا ہے اور وہی فوجیوں کی جانوں کا حتمی فیصلہ کرنے کا مجاز ہے۔ انہوں نے حالیہ کشیدگی میں ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک جذباتی مثال دی کہ “اب دو بچوں کے باپ، جن کے 7 ماہ کے جڑواں بچے ہیں، کبھی اپنے والد کو نہیں دیکھ سکیں گے اور ان کے گھر میں ایک کرسی ہمیشہ خالی رہے گی”۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کا فیصلہ صدر کا ہوتا ہے، اس لیے کسی دوسرے ملک یا شخصیت کو موردِ الزام ٹھہرانا بے معنی ہے۔