LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
محمود اچکزئی نے اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات کیلئے ہدایات جاری کر دیں امریکا ایران مذاکرات کیلئے پاکستان کا کردار قابل تحسین ہے: انتونیو گوتریس وزیراعظم کی پی ٹی آئی کو لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کرنے کی پیشکش ایل این جی سپلائی پر خدشات، حکومت کا قطر سے 3 کارگو لینے کا فیصلہ پی ٹی آئی کے پاس لوگ نہیں، لانگ مارچ اٹک سے آگے نہیں جا سکتا: گورنر خیبرپختونخوا لاہور میں غیر قانونی کال سینٹر کے خلاف بڑی کارروائی، 39 افراد گرفتار پی ٹی آئی لانگ مارچ کے باعث میٹرک کے سپلیمنٹری امتحانات ملتوی ایران کی ناکہ بندی: امریکا کا 130 تجارتی جہاز موڑنے اور 13 تباہ کرنے کا دعویٰ امریکا: دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار فائرنگ کے ذریعے سزائے موت کا اعلان اپوزیشن اور حکومت کے درمیان دوبارہ مذاکرات کی امید ہے: فواد چودھری سعودی اتحادی افواج کا آپریشن فجر الیمن، تعز میں 250 حوثی جنگجو ہلاک پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات رواں ہفتے مکمل ہوجائیں گے پاکستان سری لنکا ٹی20 اور سہ ملکی کرکٹ سیریز کیلئے ٹریفک پلان جاری ایران سے متعلق صدر ٹرمپ کے متنازع بیان پر وائٹ ہاؤس کی وضاحت، کیلیفورنیا کی قیادت شدید برہم ربیع 2026-27ء کے لیے 22 فیصد پانی کی کمی کا خدشہ: ارسا نے صوبوں کا کوٹہ مقرر کر دیا

یوٹیوب پر بچوں کیلئے اے آئی ویڈیوز بند کی جائیں: ماہرین کا گوگل سے مطالبہ

Web Desk

2 April 2026

کیلیفورنیا: گوگل کے سی ای او سندر پچائی اور یوٹیوب کے سی ای او نیل موہن کو لکھے گئے ایک مشترکہ خط میں ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز بچوں کی ذہنی نشوونما کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہیں۔ معروف سوشل سائیکولوجسٹ جوناتھن ہائیڈٹ اور ‘فیئر پلے’ جیسے اداروں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیوز تعلیمی معیار کے بجائے محض ‘مالی فائدے’ کے لیے بنائی جاتی ہیں، جو بچوں کے حقیقی دنیا کے تجربات کی جگہ لے رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، چھوٹے بچے اتنے باشعور نہیں ہوتے کہ وہ یوٹیوب کی جانب سے لگائے گئے “مصنوعی مواد” کے لیبلز کو پڑھ سکیں یا سمجھ سکیں۔ اس کے نتیجے میں وہ حقیقت اور اے آئی کے تیار کردہ فریب میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو رہے ہیں، جس سے ان کی سماجی اور جذباتی مہارتیں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

رپورٹ میں گوگل کی جانب سے اے آئی اینیمیشن سٹوڈیو Animaj میں سرمایہ کاری پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کا مواد بچوں کے اسکرین ٹائم کو “ایڈکشن” (لت) میں بدل رہا ہے، جس کے لیے حال ہی میں کئی عالمی عدالتوں نے گوگل اور میٹا کو ذمہ دار بھی قرار دیا ہے۔