LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

بیماری کے دوران بھوک کیوں ختم ہو جاتی ہے؟ نئی تحقیق نے وجہ بتا دی

Web Desk

1 April 2026

سان فرانسسکو: یونیورسٹی آف کیلیفورنیا (UCSF) کی ایک حالیہ سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی آنتیں بیماری کی صورت میں دماغ کو مخصوص سگنلز بھیجتی ہیں جو بھوک کو فوری طور پر کم کر دیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق، جب جسم کسی وائرس یا انفیکشن کا شکار ہوتا ہے تو آنتوں میں موجود مخصوص خلیے اس تبدیلی کو محسوس کرتے ہیں اور دماغ کے اس حصے کو پیغام بھیجتے ہیں جو ہماری بھوک اور کھانے کی خواہش کو کنٹرول کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک “قدرتی دفاعی نظام” ہے۔ جب انسان بیمار ہوتا ہے، تو ہاضمے کا عمل جسم کی بہت زیادہ توانائی صرف کرتا ہے۔ بھوک کم کر کے دماغ جسم کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی تمام تر توانائی ہاضمے کے بجائے بیماری کے خلاف لڑنے اور مدافعتی نظام (Immune System) کو مضبوط بنانے پر مرکوز کر سکے۔

تحقیق میں یہ دلچسپ نکتہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہ عمل فوری طور پر شروع نہیں ہوتا۔ بیماری کے ابتدائی چند گھنٹوں میں بھوک معمول کے مطابق رہ سکتی ہے، لیکن جیسے ہی انفیکشن جڑ پکڑتا ہے، آنتوں سے موصول ہونے والے سگنلز دماغ کو متحرک کر دیتے ہیں اور مریض کھانے میں دلچسپی کھو دیتا ہے۔ یہ دریافت مستقبل میں دائمی بیماریوں اور انفیکشنز کے دوران مریضوں کی غذائی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔