LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
احتجاج ہمارا حق،27 ستمبر کو پوری قوت کے ساتھ نکلیں گے: سہیل آفریدی امریکا کا ایرانی صدر کی میڈیا ٹیم کو ویزے دینے سے انکار ایران پر حملے کا فیصلہ کن جواب دیں گے: جنرل امیر حاتمی اسلام آباد کنٹینروں سے بھر گیا، کسی کو احتجاج کا حق نہیں دیا جا رہا: مولانا فضل الرحمان محسن نقوی تہران پہنچ گئے، ایرانی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں متوقع امریکا ٹیک صنعت کا بڑا شراکت دار، جلد ایپل اور گول بھی پاکستان آرہے ہیں: شزہ فاطمہ دو ماہ میں ترسیلات زر 6.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں: احسن اقبال کا دعویٰ سہیل آفریدی اگر ڈیلیور نہیں کر سکتے تو گھر چلے جائیں: عطا تارڑ سٹاک مارکیٹ میں تیزی، کاروبار کا مثبت رجحان رہا ایم کیو ایم کی اتوار والی ریلی ریفرنڈم تھا، دھمکیوں سے نہیں ڈرتے : خالد مقبول صدیقی روسی اسٹیٹ ڈوما کے الیکشن: صدر پوتن کی حامی جماعت یونائیٹڈ رشیا کو واضح برتری خیبرپختونخوا میں سکیورٹی فورسز کی زمینی و فضائی کارروائی، 37 دہشت گرد ہلاک اسرائیلی وزیر کا مسجد اقصیٰ پر دھاوا، مذہبی رسومات کی ادائیگی، سعودیہ اور قطر کی شدید مذمت شادی کی تقریب میں مضر صحت کھانا کھانے سے 400 افراد کی حالت غیر ہوگئی حوثیوں کا سعودی عرب پر 24 گھنٹوں میں 28 فضائی حملوں کا الزام

برطانیہ میں امیگریشن قوانین سخت؛ غیر قانونی آمد پر مستقل رہائش کیلئے 30 سال انتظار کرنا ہوگا

Web Desk

20 November 2025

برطانیہ نے امیگریشن پالیسی میں سخت ترین اصلاحات کا اعلان کردیا ہے جن کے تحت غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کیلئے اب 30 سال تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔ نئی پالیسی ان افراد پر بھی لاگو ہوگی جو انسانی حقوق کی بنیاد پر ملک بدری سے بچ نکلیں۔

ہوم سیکریٹری شابانہ محمود کی جانب سے پیش کی گئی مجوزہ اصلاحات کے مطابق وہ غیر قانونی تارکین، جنہوں نے فیملی لائف یا انسانی حقوق کی شق 8 کے تحت کامیاب اپیل کرکے ملک بدری رکوا لی، اب مستقل رہائش کے لیے طویل ترین مدت کا سامنا کریں گے۔

اسی طرح کم ہنر والے کام کرنے والے وہ تارکین جو ریاستی مراعات (benefits) لیتے ہیں، انہیں بھی مستقل رہائش (ILR) حاصل کرنے کے لیے 25 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت کی نئی مشاورتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی فرد برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہو یا بطور وزیٹر آیا ہو تو اس کے لیے سیٹلمنٹ کا دورانیہ بڑھا دیا جائے گا، جو بعض کیسز میں 30 سال تک پہنچ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ سزائیں ان ناکام اسائلم سیکرز پر بھی لاگو ہوں گی جو قانونی اپیل جیت کر ملک میں رہنے کا حق حاصل کر لیتے ہیں۔
فی الحال قانونی طور پر آنے والے افراد کو 5 سال بعد مستقل رہائش مل جاتی ہے، مگر نئی پالیسی کے تحت یہ دورانیہ تمام کیٹگریز میں بڑھا کر 10 سال کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ خصوصی شعبوں کے لیے الگ مدت رکھی گئی ہے۔

مزید یہ کہ یہ اصلاحات 2021 کے بعد آنے والے تقریباً 20 لاکھ افراد پر بھی لاگو ہوں گی، جس سے امیگریشن نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔