LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پہلا ون ڈے، پاکستان نے آسٹریلیا کو 5 وکٹ سے ہرا دیا نیویارک حراستی مرکز کے باہر مظاہرے، پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں، آنسو گیس کا استعمال امریکا: میساچوسٹس کے تعلیمی اداروں میں ریچھ داخل، طلبہ کلاس رومز تک محدود رہے پاکستان ون ڈے کرکٹ میں 1000میچ کھیلنے والی تیسری ٹیم بن گئی وزیراعلیٰ نے ستھرا پنجاب ورکرز کیلئے 10ہزار فی کس انعام کا اعلان کیا ہے: مریم اورنگزیب پاکستان ایک مخلص دوست، ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہوگی: امریکی وزیر جنگ جیٹ فیول اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتوں میں بڑی کمی، نوٹیفکیشن جاری آئی ایم ایف کا گاڑیوں اور سولر پینلز پر سیلز ٹیکس چھوٹ برقرار رکھنے سے انکار پاکستان کی شاندار کامیابی: مسلسل پانچویں سال بھی ایراسمس منڈس اسکالرشپ حاصل کرنے میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر برقرار امریکی صدر کے نام کی شمولیت غیر قانونی قرار: کینیڈی سینٹر بند کرنے کا ٹرمپ انتظامیہ کا فیصلہ امریکی عدالت نے معطل کر دیا حاجیوں کی وطن واپسی کے لیے سعودی عرب سے پروازوں کا آغاز کل ہوگا امریکا کا امیر ممالک کے دفاعی اخراجات کا مزید بوجھ اٹھانے سے انکار ملک بھر میں 74 لاکھ 70 ہزار جانور قربان کیے گئے، ٹینریز ایسوسی ایشن ٹیکس وصولی کے لیے ایف بی آر کے تمام دفاتر 30 مئی کو کھلے رہیں گے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی واشنگٹن میں ملاقات، پاک امریکا تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

برطانیہ میں امیگریشن قوانین سخت؛ غیر قانونی آمد پر مستقل رہائش کیلئے 30 سال انتظار کرنا ہوگا

Web Desk

20 November 2025

برطانیہ نے امیگریشن پالیسی میں سخت ترین اصلاحات کا اعلان کردیا ہے جن کے تحت غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے افراد کو مستقل رہائش حاصل کرنے کیلئے اب 30 سال تک کا انتظار کرنا پڑے گا۔ نئی پالیسی ان افراد پر بھی لاگو ہوگی جو انسانی حقوق کی بنیاد پر ملک بدری سے بچ نکلیں۔

ہوم سیکریٹری شابانہ محمود کی جانب سے پیش کی گئی مجوزہ اصلاحات کے مطابق وہ غیر قانونی تارکین، جنہوں نے فیملی لائف یا انسانی حقوق کی شق 8 کے تحت کامیاب اپیل کرکے ملک بدری رکوا لی، اب مستقل رہائش کے لیے طویل ترین مدت کا سامنا کریں گے۔

اسی طرح کم ہنر والے کام کرنے والے وہ تارکین جو ریاستی مراعات (benefits) لیتے ہیں، انہیں بھی مستقل رہائش (ILR) حاصل کرنے کے لیے 25 سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

حکومت کی نئی مشاورتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی فرد برطانیہ میں غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہو یا بطور وزیٹر آیا ہو تو اس کے لیے سیٹلمنٹ کا دورانیہ بڑھا دیا جائے گا، جو بعض کیسز میں 30 سال تک پہنچ سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ سزائیں ان ناکام اسائلم سیکرز پر بھی لاگو ہوں گی جو قانونی اپیل جیت کر ملک میں رہنے کا حق حاصل کر لیتے ہیں۔
فی الحال قانونی طور پر آنے والے افراد کو 5 سال بعد مستقل رہائش مل جاتی ہے، مگر نئی پالیسی کے تحت یہ دورانیہ تمام کیٹگریز میں بڑھا کر 10 سال کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ خصوصی شعبوں کے لیے الگ مدت رکھی گئی ہے۔

مزید یہ کہ یہ اصلاحات 2021 کے بعد آنے والے تقریباً 20 لاکھ افراد پر بھی لاگو ہوں گی، جس سے امیگریشن نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔