LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا سعودی تنصیبات پر حملے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ امریکی سینیٹر کرس مرفی کا ایران کیساتھ سفارتی ڈیل پر توجہ دینے پر زور پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے یمنی مسلح افواج نے حوثی ملیشیا کے خلاف حملے شروع کر دیئے ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں

قومی سطح پر تھریٹ انٹیلی جنس کے انضمام اور تبادلے کا نیا نظام قائم

Web Desk

24 March 2026

اسلام آباد: پاکستان نے اپنی ڈیجیٹل سرحدوں کی حفاظت کے لیے ایک جدید اور مربوط “تھریٹ انٹیلی جنس شیئرنگ سسٹم” فعال کر دیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (National CERT) کے مقامی طور پر تیار کردہ نظام کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور پاک فوج کے سائبر ڈویژن کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جس سے سائبر حملوں کی بروقت نشاندہی اور فوری ردِعمل ممکن ہو گیا ہے۔

اس نئے نظام کی بنیاد مقامی سطح پر چلنے والے MISP سسٹم (Malware Information Sharing Platform) پر رکھی گئی ہے، جو بیرونی انٹیلی جنس پر انحصار کم کرتے ہوئے پاکستان کی سائبر خودمختاری کو مضبوط بناتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے اہم قومی، سرکاری اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے خطرات کی ریئل ٹائم (Real-time) میں نشاندہی کی جا سکے گی، جس سے سائبر حملوں کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں مدد ملے گی۔

دستاویزات کے مطابق، یہ مربوط نظام نہ صرف اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری قائم کرے گا بلکہ مشترکہ انٹیلی جنس کی بدولت “تھریٹ ہنٹنگ” (Threat Hunting) اور پیشگی خطرات کی روک تھام کو بھی یقینی بنائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ترین سائبر خطرات اور ریاستی سطح پر ہونے والے ڈیجیٹل حملوں کے خلاف یہ تیاری پاکستان کے دفاعی نظام میں ایک انقلابی اضافہ ہے۔