LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور جرمنی کا تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے پر اتفاق مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، ریاست کو یرغمال بنا کر کوئی مطالبہ نہیں منوایا جا سکتا: رانا ثناء ایم ٹی آنر 25 کے مزید 3 پاکستانی کریو ارکان بھی وطن واپس روانہ سموگ اور فوگ کا خدشہ: بلدیاتی الیکشن اپریل 2027 میں کرانے کی تجویز ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے: قطر پاکستان کی سفارتی کامیابی، اقوام متحدہ میں پانی سے متعلق قرارداد منظور بیرئیر ہٹانے کے کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ پر فرد جرم عائد خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث فضائی آپریشن ایک بار پھر متاثر مریم نواز سے عمانی وزیر کی ملاقات، ”اپنی چھت، اپنا گھر“ منصوبے میں دلچسپی خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشت گردی کو ہر قیمت پر روکنا ہوگا: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ امریکی سٹاک مارکیٹ میں تیزی، سرمایہ کاروں کی توجہ تیسری سہ ماہی کے مالی نتائج پر مرکوز ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور ابہا کے ائیرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے: حوثی ملیشیا دبئی: بیوٹی ورلڈ مڈل ایسٹ 2026ء کی نمائش میں پاکستان پویلین کا افتتاح

نوجوان لڑکی کا گوگل اور میٹا پر مقدمہ، جیوری کے لیے فیصلہ مشکل ہو گیا

Web Desk

24 March 2026

لاس اینجلس: سوشل میڈیا کی لت (ایڈکشن) کے حوالے سے دنیا کے ایک انتہائی اہم مقدمے کی سماعت لاس اینجلس میں جاری ہے، جہاں جیوری نے جج کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف کسی متفقہ فیصلے تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ مقدمہ عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں گوگل اور میٹا کے خلاف ایک نوجوان خاتون کی جانب سے دائر کیا گیا ہے، جس کا موقف ہے کہ وہ کم عمری میں یوٹیوب اور انسٹاگرام کی اس حد تک عادی ہو گئی تھیں کہ اس نے ان کی زندگی کو متاثر کیا۔

رائٹرز کے مطابق، جیوری گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے اس حساس معاملے پر غور کر رہی ہے، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں کس کمپنی کے حوالے سے فیصلہ کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے جج کیرولین بی کوہل نے جیوری کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کر کے کسی نتیجے پر پہنچیں، کیونکہ فیصلہ نہ ہونے کی صورت میں مقدمے کی سماعت نئے سرے سے شروع کرنی پڑ سکتی ہے، جس سے وقت اور وسائل کا ضیاع ہوگا۔

قانونی ماہرین اس کیس کو ایک “تاریخی نظیر” قرار دے رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر جیوری ان کمپنیوں کو قصوروار ٹھہراتی ہے، تو اس کا اثر ان ہزاروں دیگر مقدمات پر پڑے گا جو دنیا بھر میں والدین اور تعلیمی اداروں کی جانب سے دائر کیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ مستقبل میں ٹیک کمپنیوں کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ فی الحال قانونی حلقوں اور ٹیکنالوجی کی دنیا کی نظریں جیوری کے اگلے اقدام پر جمی ہوئی ہیں۔