LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ امریکی سینیٹ میں جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ اہم پیشرفت قرار ایران عام ریاست بننے کا فیصلہ کرے تو ترقی کے بڑے مواقع مل سکتے ہیں: مارکو روبیو آئی اے ای اے کے انسپکٹرز ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کریں گے، ٹرمپ امریکا سے آئندہ مذاکرات اعلیٰ سطح کی کمیٹی کی نگرانی میں ہوں گے: کاظم غریب آبادی اسلام آباد اتوار بازار میں آگ بھڑک اٹھی ایرانی صدر دورہ پاکستان مکمل کرنے کے بعد وطن روانہ وزیراعظم اور ایرانی صدر کی پریس کانفرنس، مشترکہ امن کوششوں کا اعادہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ‘سی پی ایس پی’ کی جانب سے اعزازی فیلوشپ ڈگری سے نواز دیا گیا آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں امن کی بڑی کامیابی ہے: وزیراعظم

ناقص اور غیر معیاری سروس، ٹیلی کام کمپنیوں پر کروڑوں کے جرمانے

Web Desk

20 November 2025

رکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ 5 برس میں پی ٹی اے نے غیر معیاری سروس فراہم کرنے پر مختلف ٹیلی کام آپریٹرز پر مجموعی طور پر 6 کروڑ 89 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے، جب کہ اسی مدت میں 39 شوکاز نوٹس اور 17 وارننگ لیٹرز بھی جاری کیے گئے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں موبائل فون سروس متاثر ہونے اور انٹرنیٹ کے مختلف مسائل کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں، 9 ہزار موبائل سائٹس نیٹ ورک دستیابی کے مسائل کا شکار ہیں، طویل لوڈشیڈنگ، رائٹ آف وے کے مسائل، تجارتی بجلی تک محدود رسائی، بجلی چوری اور تخریب کاری کے واقعات بھی نیٹ ورک میں خلل کا باعث بن رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سروس کا معیار خطرناک حد تک گر گیا ہے، آپریٹرز کے دعوؤں کے باوجود نیٹ ورک دستیابی اب بھی لائسنس کے معیار تک نہیں پہنچ سکی۔

اِسی طرح سال کی پہلی ششماہی میں سروس سے متعلق 8 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 99.17 فیصد حل کر دی گئی ہیں، رواں سال کے دوران کوالٹی چیک کے لیے 89 پلانڈ سروے اور 78 کمپلینٹ بیسڈ سروے مکمل کیے گئے