LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سبکدوش، ترکیہ میں نئی سفارتی ذمہ داری سنبھالیں گی پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی، ہائی سپیڈ ڈیزل مزید مہنگا وزیراعظم شہباز شریف کا ملک گیر سادگی و کفایت شعاری مہم کا اعلان حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا

پلاسٹک کی بوتل سے خطرناک بیماری کی دوا تیار

Web Desk

18 March 2026

یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سائنس دانوں نے ایک ایسی جدید تحقیق پیش کی ہے جس نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ماہرین نے پلاسٹک کے کچرے کو ایک حیاتیاتی عمل کے ذریعے ایسی دوا میں تبدیل کر دیا ہے جو پارکنسنز (رعشہ) جیسی اعصابی بیماری کے علاج میں معاون ثابت ہوگی۔

تحقیق کے مطابق، سائنس دانوں نے ‘ای کولی’ (E. coli) نامی بیکٹیریا کو جینیاتی طور پر اس طرح تبدیل (Engineer) کیا ہے کہ وہ غذا اور مشروبات کی پیکجنگ میں استعمال ہونے والے پلاسٹک ‘پی ای ٹی’ (PET) کو توڑ کر اسے ‘ایل-ڈی او پی اے’ (L-DOPA) میں بدل دیتا ہے۔ واضح رہے کہ ‘ایل-ڈی او پی اے’ وہ بنیادی جز ہے جو پارکنسنز کے مریضوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے جس میں پلاسٹک کچرے کو براہ راست ایک قیمتی دوا بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پارکنسنز کی ادویات بنانے کے روایتی طریقے فاسل فیول (Fossil Fuels) پر انحصار کرتے ہیں، جبکہ پلاسٹک کا یہ ری سائیکلنگ عمل نہ صرف سستا ہے بلکہ ماحولیاتی اعتبار سے بھی انتہائی پائیدار ہے۔ اس تحقیق سے مستقبل میں فضلے کے خاتمے اور سستی ادویات کی فراہمی میں بڑی مدد ملے گی۔