LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کردی مذاکرات میں حتمی معاہدہ نہیں ہواتوجنگ بندی میں توسیع نہیں ہوگی، امریکی صدر ایران کے 6ایئرپورٹس کھل گئے، فضائی حدود50روزبعد جزوی بحال ایرانی بحریہ دشمنوں کو شکست دینے کےلیے تیارہے، مجتبیٰ خامنہ ای امریکی کی جانب سے اعتماد کی بار بار خلاف ورزی، آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی عائد ہر طرف بدانتظامی، اس سال برآمدات میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا: ایس ایم تنویر عوام کے لیے بڑی خوشخبری: لائٹ ڈیزل 70 روپے اور جیٹ فیول 23 روپے سے زائد سستا وزیراعظم شہباز شریف سہ ملکی دورہ مکمل کرکے انطالیہ سے پاکستان روانہ فیلڈ مارشل کا دورہ ایران مکمل، خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کیلئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق صدر اور وزیراعظم کا عالمی یوم ورثہ پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کے تحفظ کا عہد پاکستان، سعودیہ، مصر اور ترکیہ کا اجلاس، ثالثی کوششوں کا خیرمقدم، مستقل امن کی توقعات پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں گریجوایٹ کورس کی پروقار پاسنگ آؤٹ تقریب اسلام آباد اور خیبرپختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 5.5 ریکارڈ امریکا نے روسی تیل کی خرید و فروخت پر پابندیاں مزید ایک مہینے کیلئے ہٹا دیں کراچی سے پہلی حج پرواز 160 عازمین کے ساتھ حجازِ مقدس روانہ

ایرانی ویمنز فٹبال ٹیم کی کپتان بھی آسٹریلیا میں پناہ کی درخواست سے دستبردار

Web Desk

16 March 2026

آسٹریلیا میں مقیم ایرانی ویمنز فٹبال ٹیم کی کپتان زہرا قنبری نے سیاسی پناہ کی درخواست واپس لیتے ہوئے وطن واپسی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، زہرا قنبری جلد آسٹریلیا سے ملائیشیا روانہ ہوں گی، جہاں سے وہ ایران واپس پہنچیں گی۔ ان سے قبل ٹیم کی تین دیگر کھلاڑی اور ایک اسٹاف ممبر بھی پناہ کی پیشکش سے دستبردار ہو کر واپسی کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔ اے ایف سی ایونٹ کے اختتام پر ٹیم کے 6 اراکین آسٹریلیا میں رک گئے تھے جنہیں آسٹریلوی وزیر داخلہ ٹونی برک نے قومی ترانہ نہ گانے پر ممکنہ سزا کے خدشے کے پیش نظر پناہ کی پیشکش کی تھی۔

ٹیم کے 26 رکنی اسکواڈ میں سے صرف 6 کھلاڑیوں اور ایک معاون رکن نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ قبول کی تھی، جبکہ باقی ٹیم 9 مارچ کو روانہ ہو گئی تھی۔ اب کپتان سمیت پانچ اراکین کے فیصلے کی تبدیلی کے بعد صرف ایک کھلاڑی آسٹریلیا میں مقیم رہ گئی ہے۔ یاد رہے کہ یہ کھلاڑی کوالالمپور میں موجود اپنی باقی ٹیم کے ساتھ شامل ہو کر تہران واپس روانہ ہوں گے۔