LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
یوکرین کا 28 روسی سمندری جہازوں پر حملہ، ماسکو نے سمندری راستہ بند کردیا سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج پھر قیمت بڑھ گئی سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کےلیے اہم فیصلہ جاری ایس ای سی پی کا انقلابی قدم؛ اب IBAN کے ذریعے ڈیجیٹل ’کے وائی سی‘ ہوگی، نادرا کے بلاک شناختی کارڈز پر انویسٹمنٹ اکاؤنٹس بھی فوری بلاک کرنے کا فیصلہ پاک امریکہ تجارتی معاہدے پر واشنگٹن میں اہم پیش رفت؛ مذاکرات مثبت رہے، اختلافات کم کرنے پر اتفاق سمندری طوفان باوی سے کئی ممالک کو خطرہ، فلپائن میں کم از کم 15 افراد ہلاک حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا امریکی قونصل خانے کے وفد کا ای پی اے لاہور کا دورہ، سموگ کنٹرول اقدامات کو سراہا آئی ایم ایف اگلے 14 ماہ میں پاکستان کو مزید 3.6 ارب ڈالر قرض دے گا پاکستان کا محلِ وقوع ایک اثاثہ، معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے: اسحاق ڈار آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی تازہ کارروائیوں میں 9 دہشت گرد ہلاک عمران خان اور جمائمہ کا برطانوی گھر برائے فروخت ایف بی آر میں 323 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف امریکا نے 2 طیارہ بردار بحری جہاز لنکن اور بش ایران کے قریب تعینات کر دیئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

پیٹرولیم ڈیلرز کی حکومت کو 26 مارچ تک ڈیڈ لائن، مطالبات نہ مانے گئے تو ملک بھر میں پمپ بند کرنے کی دھمکی

Web Desk

13 March 2026

چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن عبدالسمیع خان نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر کے پیٹرولیم ڈیلرز شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

اس موقع پر وائس چیئرمین طارق حسن نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی میں اضافہ ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جس میں 21 روپے لیوی شامل ہے، تاہم باقی رقم کا حساب واضح نہیں کیا گیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ڈیلرز کو پیٹرول فراہم نہیں کر رہیں جس کے باعث کئی پیٹرول پمپ خشک ہو رہے ہیں، جبکہ کمپنیوں کی ذخیرہ اندوزی میں حکومت کی معاونت بھی شامل ہے۔

طارق حسن کے مطابق آج بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی لیٹر اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 12 سے 14 ہزار پیٹرول پمپس کام کر رہے ہیں اور ڈیلرز ایڈوانس انکم ٹیکس بھی ادا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کا مارجن صرف 2.59 فیصد یعنی تقریباً 8 روپے 64 پیسے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اوگرا نے گزشتہ سال مارجن میں 1.68 روپے فی لیٹر اضافے کی سمری حکومت کو بھیجی تھی، مگر وزیراعظم نے ڈیجیٹائزیشن کی شرط لگا کر اسے مسترد کر دیا۔

پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو 26 مارچ تک ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر میں پیٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے جائیں گے۔

ڈیلرز کے مطالبات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کی رقم کا آڈٹ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف تحقیقات اور پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن 8 فیصد تک بڑھانا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ رمضان میں عوام کو پریشان نہیں کرنا چاہتے، تاہم اپنے حقوق کے لیے احتجاج پر مجبور ہو سکتے ہیں۔