LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
غیر ملکی خواتین سے جنسی زیادتی اور اغوا کا کیس: ملزمان کا مزید 5 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور بہامس میں طیارہ گر کر تباہ، 10 افراد ہلاک یوکرین کا 28 روسی سمندری جہازوں پر حملہ، ماسکو نے سمندری راستہ بند کردیا سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج پھر قیمت بڑھ گئی سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کےلیے اہم فیصلہ جاری ایس ای سی پی کا انقلابی قدم؛ اب IBAN کے ذریعے ڈیجیٹل ’کے وائی سی‘ ہوگی، نادرا کے بلاک شناختی کارڈز پر انویسٹمنٹ اکاؤنٹس بھی فوری بلاک کرنے کا فیصلہ پاک امریکہ تجارتی معاہدے پر واشنگٹن میں اہم پیش رفت؛ مذاکرات مثبت رہے، اختلافات کم کرنے پر اتفاق سمندری طوفان باوی سے کئی ممالک کو خطرہ، فلپائن میں کم از کم 15 افراد ہلاک حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا امریکی قونصل خانے کے وفد کا ای پی اے لاہور کا دورہ، سموگ کنٹرول اقدامات کو سراہا آئی ایم ایف اگلے 14 ماہ میں پاکستان کو مزید 3.6 ارب ڈالر قرض دے گا پاکستان کا محلِ وقوع ایک اثاثہ، معاشی فوائد حاصل کر سکتا ہے: اسحاق ڈار آپریشن شعبان: بلوچستان میں فورسز کی تازہ کارروائیوں میں 9 دہشت گرد ہلاک عمران خان اور جمائمہ کا برطانوی گھر برائے فروخت ایف بی آر میں 323 ارب روپے سے زائد کی ٹیکس بے ضابطگیوں کا انکشاف

عمران خان کی بہنوں پر تشدد قابلِ شرم اور ریاستی کمزوری کی علامت ہے،سہیل آفریدی

Web Desk

18 November 2025

پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پنجاب پولیس کی جانب سے عمران خان کی بہنوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور طاقت کے استعمال کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفت میں خواتین پر ہاتھ اٹھانا انتہائی قابلِ افسوس، بزدلی اور ریاستی اداروں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

سہیل آفریدی کا ایکس پر بیان میں کہنا تھا کہ جب حکومتی مشینری سیاسی مخالفین کا سامنا کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو وہ گھریلو خواتین پر حملہ آور ہو جاتی ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اس سے قبل عمران خان کی اہلیہ کے خلاف بھی “گھٹیا الزامات” لگا کر منظم کردار کشی کی گئی، جو اسی سلسلے کا حصہ ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے یہ بھی بتایا کہ آج صوبائی وزیر مینا خان پر مبینہ تشدد اور قومی اسمبلی کے رکن شاہد خٹک سمیت دیگر منتخب نمائندوں کو گرفتار کرنے کی کوششیں نہ صرف قابلِ اعتراض ہیں بلکہ پارلیمانی تقدس کی خلاف ورزی بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین، قانون اور جمہوری اقدار کا عملاً جنازہ نکال دیا گیا ہے اور حالات کو دانستہ طور پر ایسی سمت دھکیلا جا رہا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی۔
سہیل آفریدی نے خبردار کیا کہ “یہ سب کچھ تاریخ میں درج ہو رہا ہے، اور بعد میں نہ کوئی عورت کارڈ چلے گا، نہ جمہوریت اور نہ اخلاقیات کا ڈھونگ۔”