LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ڈی ایف سی وفد سے ملاقات: زراعت، توانائی اور معدنیات میں تعاون کا اعادہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ہم منصب سے ملاقات: اقتصادی تعاون اور امریکی سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق بھارتی نوجوانوں کی تحریک زور پکڑ گئی، ملک کے اندر اور باہر شدید احتجاج ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کیلئے کانگریس سے مزید 87 ارب ڈالر مانگ لئے جوہری تنصیبات پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے، ایران فرانسیسی ایئرلائن نے مشرق وسطیٰ کی پروازیں منسوخ کر دیں سعودیہ کا ملٹی پل عمرہ ویز متعارف، قیام کی انتہائی حد 90 روز مقرر آئی ایم ایف کا یوکرین کو 690 ملین ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان چین نے جاپانی کے نام نہاد تحفظات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا فلائی دبئی کی شام کے شہر حلب کیلئے روزانہ براہ راست پروازیں شروع اسرائیلی فوج کا غزہ میں مکان پر فضائی حملہ، فلسطینی میاں بیوی 4 بچوں سمیت شہید ایران جنگ میں امریکا کو جھونکنے والا اسرائیل پیچھے ہوگیا یوکرینی صدر نے فوج کے کمانڈر اِن چیف کو عہدے سے برطرف کر دیا ٹرمپ نے لبنان کیلئے براہ راست امریکی پروازیں بحال کرنے کی منظوری دے دی اربیل ایئرپورٹ میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام پروازیں عارضی طور پر معطل

سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ کیخلاف اپیل سننے کا اختیار نہیں: وفاقی آئینی عدالت

Web Desk

5 March 2026

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا اور قانونی جنگ کا کسی نہ کسی مرحلے پر اختتام ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق زمین کے معاوضے کا تنازع عوامی اہمیت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک نجی معاملہ ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت حاصل غیر معمولی اختیار صرف عوامی مفاد کے مقدمات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، انفرادی شکایات کے لیے نہیں۔چیف جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں مزید لکھا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت نظرثانی کا حق محدود ہے اور سپریم کورٹ سے نظرثانی مسترد ہونے کے بعد معاملہ ختم تصور کیا جاتا ہے۔فیصلے کے مطابق درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا جسے 2022 میں دو رکنی بینچ نے تبدیل کر دیا۔یہ مقدمہ درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے سے متعلق تھا۔