LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اڈیالہ جیل: بشریٰ بی بی سے ملاقات کی درخواست مسترد، وکلا کا جیل حکام پر قانون شکنی کا الزام رکاوٹوں کے باعث کام جاری رکھناممکن نہیں، گوادرمیں چینی کمپنی نے فیکٹری بند کردی،تمام ملازمین برطرف ایران کی نئی تجاویزسے مطمئن نہیں ایرانی قیادت کاآپس میں اتحادنہیں، امریکی صدر جنگ میں ہونے والے نقصان کا ہرجانہ دیاجائے، ایران کا عرب ممالک سے مطالبہ ایران سے جنگ جاری رہے گی یا نہیں؟ اب فیصلہ ٹرمپ کے بجائے کانگریس کرے گی امریکاکو جنگ میں 100ارب ڈالر کا نقصان ہوچکاہے، ایرانی وزیرخارجہ ایران نے امریکا سے جنگ بندی مذاکرات کےلیےنئی تجاویز پاکستان کے حوالے کردیں ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس؛ وزیرِ اعظم نے وفاقی وزیرِ قانون کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی بنا دی وفاق نے خیبرپختونخوا کو تجربہ گاہ بنایا ہوا، اب مزید نہیں چلے گا: سہیل آفریدی قانون سے کوئی بالاتر نہیں ، ون کانسٹیٹوشن ایونیو کو لیز پر لینے والی کمپنی نے قوانین توڑے ، طلال چوہدری یوم مزدور کو تقریبات، خبروں کا سلسلہ بنا کر ختم کر دیا جاتا: حافظ نعیم ملک سے لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ؛ ایل این جی موصول ہوتے ہی بجلی کی فراہمی معمول پر آگئی، اویس لغاری احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ؛ ملک ریاض اور ان کے بیٹوں کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدے پر دستخط پاکستان جنوبی کوریا مشترکہ تجارتی کمیٹی کے قیام اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق

سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ کیخلاف اپیل سننے کا اختیار نہیں: وفاقی آئینی عدالت

Web Desk

5 March 2026

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔

چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت امین الدین خان کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا اور قانونی جنگ کا کسی نہ کسی مرحلے پر اختتام ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق زمین کے معاوضے کا تنازع عوامی اہمیت کا معاملہ نہیں بلکہ ایک نجی معاملہ ہے، جبکہ آئین کے آرٹیکل 184(3) کے تحت حاصل غیر معمولی اختیار صرف عوامی مفاد کے مقدمات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، انفرادی شکایات کے لیے نہیں۔چیف جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں مزید لکھا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 188 کے تحت نظرثانی کا حق محدود ہے اور سپریم کورٹ سے نظرثانی مسترد ہونے کے بعد معاملہ ختم تصور کیا جاتا ہے۔فیصلے کے مطابق درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا جسے 2022 میں دو رکنی بینچ نے تبدیل کر دیا۔یہ مقدمہ درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے سے متعلق تھا۔