LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح مذاکرات کا دوسرا دور،

Web Desk

3 March 2026

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان پالیسی سطح مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے، جس میں خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں متبادل معاشی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان سے علاقائی کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر مبنی جامع پلان طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے جائزہ مشن اور پاکستانی حکام کے درمیان ورچوئل مذاکرات اسلام آباد، استنبول اور واشنگٹن سے جاری ہیں۔ مذاکرات میں علاقائی کشیدگی کے معیشت، توانائی، ٹیکس محاصل، برآمدات، درآمدات اور جاری اصلاحات پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وزارت خزانہ، وزارت توانائی اور وزارت تجارت کو مشترکہ طور پر ہنگامی اقدامات پر مشتمل پلان تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات کے تسلسل اور ٹیکس وصولی میں اضافے پر بھی زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ اور پبلک پرکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان طویل اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں سرکاری خریداری کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے آگاہ کیا کہ یکم جولائی 2026 سے سرکاری خریداری کو ای پرکیورمنٹ سسٹم ای پیڈز سے منسلک کیا جائے گا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ سال 2027 کے اختتام تک تمام وفاقی اداروں اور 2028 کے اختتام تک صوبائی اداروں کو ای پیڈز نظام سے منسلک کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ دو ارب روپے سے زائد کی سرکاری خریداری میں تھرڈ پارٹی جانچ لازمی قرار دی جائے گی۔ جولائی 2024 سے اب تک 2200 سرکاری افسران کو جدید سرکاری خریداری نظام کی تربیت دی جا چکی ہے۔