LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسحاق ڈار کا مالدیپ کی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، 61ویں یومِ آزادی پر مبارکباد دی اسٹاک مارکیٹ میں ہفتہ وار شدید مندی؛ سرمایہ کاروں کے 259 ارب روپے ڈوب گئے، امریکا اور اسرائیل کو جنگی جرائم کی سزا اور ہرجانہ ادا کرنا ہوگا: سربراہ ایرانی عدلیہ بنوں: پولیس نے 40 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست جاری کر دی، سروں کی قیمت مقرر پاکستان ہاکی کی بہتری کیلیے غیر ملکی کوچز نے کام شروع کر دیا غیر ملکی خواتین سے جنسی زیادتی اور اغوا کا کیس: ملزمان کا مزید 5 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور بہامس میں طیارہ گر کر تباہ، 10 افراد ہلاک یوکرین کا 28 روسی سمندری جہازوں پر حملہ، ماسکو نے سمندری راستہ بند کردیا سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں آج پھر قیمت بڑھ گئی سپریم کورٹ کا تعلیمی اداروں میں ہراسانی کے واقعات کی روک تھام کےلیے اہم فیصلہ جاری ایس ای سی پی کا انقلابی قدم؛ اب IBAN کے ذریعے ڈیجیٹل ’کے وائی سی‘ ہوگی، نادرا کے بلاک شناختی کارڈز پر انویسٹمنٹ اکاؤنٹس بھی فوری بلاک کرنے کا فیصلہ پاک امریکہ تجارتی معاہدے پر واشنگٹن میں اہم پیش رفت؛ مذاکرات مثبت رہے، اختلافات کم کرنے پر اتفاق سمندری طوفان باوی سے کئی ممالک کو خطرہ، فلپائن میں کم از کم 15 افراد ہلاک حکومت نے جیٹ فیول کی قیمت میں بھی اضافہ کر دیا گیا امریکی قونصل خانے کے وفد کا ای پی اے لاہور کا دورہ، سموگ کنٹرول اقدامات کو سراہا

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح مذاکرات کا دوسرا دور،

Web Desk

3 March 2026

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان پالیسی سطح مذاکرات کا دوسرا دور جاری ہے، جس میں خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں متبادل معاشی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان سے علاقائی کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر مبنی جامع پلان طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے جائزہ مشن اور پاکستانی حکام کے درمیان ورچوئل مذاکرات اسلام آباد، استنبول اور واشنگٹن سے جاری ہیں۔ مذاکرات میں علاقائی کشیدگی کے معیشت، توانائی، ٹیکس محاصل، برآمدات، درآمدات اور جاری اصلاحات پر ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وزارت خزانہ، وزارت توانائی اور وزارت تجارت کو مشترکہ طور پر ہنگامی اقدامات پر مشتمل پلان تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے پائیدار معاشی ترقی کے لیے اصلاحات کے تسلسل اور ٹیکس وصولی میں اضافے پر بھی زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ اور پبلک پرکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے درمیان طویل اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں سرکاری خریداری کے نظام کو مزید شفاف بنانے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے آگاہ کیا کہ یکم جولائی 2026 سے سرکاری خریداری کو ای پرکیورمنٹ سسٹم ای پیڈز سے منسلک کیا جائے گا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ سال 2027 کے اختتام تک تمام وفاقی اداروں اور 2028 کے اختتام تک صوبائی اداروں کو ای پیڈز نظام سے منسلک کرنے کا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ دو ارب روپے سے زائد کی سرکاری خریداری میں تھرڈ پارٹی جانچ لازمی قرار دی جائے گی۔ جولائی 2024 سے اب تک 2200 سرکاری افسران کو جدید سرکاری خریداری نظام کی تربیت دی جا چکی ہے۔