LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات، ایرانی میڈیا ایران سے معاہدہ ہوا تو اسلام آباد جا سکتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 1ارب 32 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ درآمدی گیس بند ہونے سے عارضی لوڈشیڈنگ، بحران جلد حل ہو جائیگا: وزیر توانائی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کمانڈو و سپیشل فورسز مشق ’’جناح XIII کامیابی سے مکمل وزیراعظم دوحہ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، امیرِ قطر سے ملاقات متوقع حج آپریشن 2026 میں بڑی پیش رفت؛ ‘روڈ ٹو مکہ’ پراجیکٹ کے لیے سعودی امیگریشن ٹیم کراچی پہنچ گئی پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے: دفتر خارجہ معاشی استحکام کی جانب بڑی پیش رفت؛ سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کو منتقل کر دیے پاکستان نیوی کا مقامی اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ لبنان اور اسرائیل 34 برس بعد آج براہ راست بات چیت کریں گے: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت زون میں آغاز امریکا کی آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز کارروائیاں، ایران نے نتائج سے خبردار کر دیا پاور ڈویژن کی ملک میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تصدیق ٹرمپ کی برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی

بھارتی قبضے سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا محفوظ نہیں ہو سکتا: صدر زرداری

Web Desk

2 March 2026

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بھارتی قبضہ سے کشمیر کی آزادی تک جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر ایاز صادق کر رہے ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف، صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گورنر اور غیر ملکی سفارتکار بھی اس میں شریک ہیں۔ اجلاس کا آغاز قومی ترانے سے ہوا، جس کے بعد تلاوتِ کلام پاک کی گئی۔

صدر زرداری نے کہا کہ بطور دو بار منتخب صدر یہ ان کا پارلیمنٹ کو 9واں خطاب ہے، اور نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر قوم کو عزم مضبوط رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریہ کی طاقت آئین، عوامی ثابت قدمی، پارلیمنٹ، حکومت اور مسلح افواج میں مضمر ہے۔ ملکی خودمختاری کا تحفظ، آئین کی حکمرانی، معاشی ترقی، اور شہریوں کی خوشحالی و امن کے لیے ترقی اور استحکام کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔

صدر نے کہا کہ آج ہم انہی بنیادوں پر کھڑے ہیں جو ہماری قومی جدوجہد کے معماروں نے رکھی تھیں۔ قائد اعظم نے آئین اور قانون کی حکمرانی پر مبنی جمہوری ریاست کا تصور پیش کیا، جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو متفقہ آئین دیا۔ بے نظیر بھٹو نے قربانی اور مثالی قیادت کے ذریعے جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔

صدر نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کے لیے ان کے اقدامات صرف الفاظ تک محدود نہیں، بلکہ عملی اقدامات سے بھی ظاہر ہیں۔ سلامتی کونسل کی رپورٹ میں افغان دہشت گردوں کو علاقائی خطرے سے بڑھ کر عالمی خطرہ قرار دیا گیا۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیر کی آزادی اور جنوبی ایشیا میں امن کے لیے تمام متعلقہ فریق یکسو اور متحرک رہیں۔