LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خلع کے معاملے میں حق مہر کی واپسی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ عمران خان کی ہسپتال منتقلی: توہین عدالت درخواست کی جلد سماعت کی استدعا پھر مسترد معیشت کو بیرونی امداد سے تجارت و سرمایہ کاری کی جانب لے جا رہے ہیں: وزیر خزانہ جنگ نہیں چاہتے، جارحیت پر خاموش بھی نہیں بیٹھیں گے: ایرانی صدر پاکستان کا تیل کا درآمدی بل جولائی میں ساڑھے 3 کھرب روپے تک پہنچ گیا آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد سپر ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی پاکستان میں صرف بیوروکریسی احتساب سے محفوظ اور ناقابلِ گرفت رہی: خواجہ آصف نیویارک: واشنگٹن اسکوائر پارک میں میئر زوہراں ممدانی سے مشابہت رکھنے والوں کے مقابلے میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا منفی زون میں آغاز اے آئی اگلے سال ‘سُپر ہیومن’ بن کر انسانوں پر حاوی ہو جائے گی: ایلون مسک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ترکیہ کے یوم فتح کے موقع پر پاک ترک دوستی کے نام خصوصی نغمہ جاری مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سہ ملکی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا ایران امریکی حملے کا تباہ کن، تکلیف دہ اور سبق آموز جواب دے گا: ابراہیم عزیزی ایران کی معاشی تنہائی کیلئے چین پر پابندیوں سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں، سکاٹ بیسنٹ

آٹھ ماہ میں محصولات کا بڑا خسارہ، ایف بی آر کو 450 ارب روپے کی کمی کا سامنا

Web Desk

28 February 2026

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران محصولات کی وصولی میں 450 ارب روپے کے نمایاں شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث سالانہ ہدف میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق جولائی تا فروری ایف بی آر نے تقریباً 8.1 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا، جو نظرثانی شدہ ہدف سے 450 ارب روپے کم ہے، جبکہ اصل مقررہ ہدف کے مقابلے میں یہ کمی 670 ارب روپے بنتی ہے۔

ابتدا میں ایف بی آر کا سالانہ ہدف 14.13 کھرب روپے مقرر کیا گیا تھا، تاہم عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسے 216 ارب روپے کم کر دیا گیا۔ اب حکام ہدف میں مزید نمایاں کمی کی تجویز پر غور کر رہے ہیں اور آئندہ ہفتے عالمی مالیاتی ادارے سے اس حوالے سے بات چیت متوقع ہے۔

حکومت نے محصولات میں کمی پوری کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ اور ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کی ہے تاکہ بنیادی بجٹ سرپلس کا ہدف حاصل کیا جا سکے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدامات مالی استحکام کا وقتی تاثر دے رہے ہیں۔