LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آن لائن گیم میں بھاری رقم ہارنے پر پیٹرولنگ پولیس اہلکار نے خودکشی کرلی ایٹمک ڈکٹیشن 2026 کا دائرہ وسیع، روس سمیت متعدد ممالک میں آج سے آغاز حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی تشکیل ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل تک ختم نہیں ہو گا: نومنتخب وزیراعظم دورہ برطانیہ کامیاب رہا، پاکستان سفارتی طور پر پہلے سے کہیں بہتر مقام پر ہے: اسحاق ڈار پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

پاکستان اسٹاک ایکسچینج : سرمایہ کاروں کے 756 ارب 81 کروڑ روپے ڈوب گئے

Web Desk

21 February 2026

کراچی: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور ملک میں جاری سیاسی ہلچل کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج گزشتہ ہفتے شدید مندی کی لپیٹ میں رہی۔ مثبت معاشی اعشاریوں کے باوجود سرمایہ کار اعتماد بحال نہ ہو سکا۔
کاروباری ہفتے کے دوران 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 6 ہزار 434 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد انڈیکس 3.6 فیصد تنزلی کے ساتھ ایک لاکھ 73 ہزار 169 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
ہفتے بھر کے دوران 100 انڈیکس نے ایک لاکھ 79 ہزار سے لے کر ایک لاکھ 74 ہزار تک کی چھ نفسیاتی حدیں کھو دیں، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار بلند ترین سطح ایک لاکھ 79 ہزار 969 پوائنٹس جبکہ کم ترین سطح ایک لاکھ 69 ہزار 592 پوائنٹس رہی۔
مارکیٹ میں مندی کے باعث سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور ایک ہفتے میں 756 ارب 81 کروڑ روپے ڈوب گئے۔ مارکیٹ کی مجموعی مالیت 757 ارب روپے کم ہو کر 19 ہزار 603 ارب روپے رہ گئی۔
حجم کے اعتبار سے بھی کاروبار سست رہا۔ مارکیٹ کا یومیہ اوسط حجم 24 فیصد کمی کے بعد 65 کروڑ 40 لاکھ شیئرز جبکہ یومیہ اوسط تجارتی مالیت 12 فیصد کمی کے ساتھ 13 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی۔
ماہرین کے مطابق عالمی اور مقامی سیاسی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو مارکیٹ پر دباؤ آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔