LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

پاکستان اسٹاک ایکسچینج : سرمایہ کاروں کے 756 ارب 81 کروڑ روپے ڈوب گئے

Web Desk

21 February 2026

کراچی: ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور ملک میں جاری سیاسی ہلچل کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج گزشتہ ہفتے شدید مندی کی لپیٹ میں رہی۔ مثبت معاشی اعشاریوں کے باوجود سرمایہ کار اعتماد بحال نہ ہو سکا۔
کاروباری ہفتے کے دوران 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 6 ہزار 434 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد انڈیکس 3.6 فیصد تنزلی کے ساتھ ایک لاکھ 73 ہزار 169 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
ہفتے بھر کے دوران 100 انڈیکس نے ایک لاکھ 79 ہزار سے لے کر ایک لاکھ 74 ہزار تک کی چھ نفسیاتی حدیں کھو دیں، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں کمی کی عکاسی کرتی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار بلند ترین سطح ایک لاکھ 79 ہزار 969 پوائنٹس جبکہ کم ترین سطح ایک لاکھ 69 ہزار 592 پوائنٹس رہی۔
مارکیٹ میں مندی کے باعث سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور ایک ہفتے میں 756 ارب 81 کروڑ روپے ڈوب گئے۔ مارکیٹ کی مجموعی مالیت 757 ارب روپے کم ہو کر 19 ہزار 603 ارب روپے رہ گئی۔
حجم کے اعتبار سے بھی کاروبار سست رہا۔ مارکیٹ کا یومیہ اوسط حجم 24 فیصد کمی کے بعد 65 کروڑ 40 لاکھ شیئرز جبکہ یومیہ اوسط تجارتی مالیت 12 فیصد کمی کے ساتھ 13 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہی۔
ماہرین کے مطابق عالمی اور مقامی سیاسی غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو مارکیٹ پر دباؤ آئندہ ہفتوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔