LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا میڈیا کے ذریعے توانائی مارکیٹ میں ہیرا پھیری کر رہا ہے، عباس عراقچی کیف کے قریب روسی ڈرون حملہ، گولہ بارود ڈپو میں دھماکہ، 37 افراد ہلاک ایران کا امریکا اسرائیل سے منسلک دہشتگرد گروپ کے 6 ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ مسلم ممالک سکیورٹی کیلئے بیرونی طاقتوں کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کریں، قالیباف فنڈز میں تاخیر، اسرائیلی فوج کا ستمبر سے ریزرو فوج میں کٹوتیوں کا عندیہ یو ایس ایس ابراہم لنکن سے کودنے والے امریکی اہلکار کیخلاف کارروائی، اہلیہ کا ردعمل سامنے آ گیا مسلمانوں کو دیوار کی اینٹوں کی طرح متحد ہونا ہوگا، ترک صدر ایران جنگ نہیں چاہتا، مگر ہر جارح کیخلاف پوری قوت سے کھڑا ہوگا: صدر پزشکیان ایران کا دفاعی صلاحیتیں مزید مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھنے کا اعلان جنوبی کوریا میں تمام شہریوں کو مفت اے آئی سروسز ملیں گی ایران کیساتھ جنگ، ٹرمپ کی ساکھ متاثر اور مشرق وسطیٰ میں امریکی پوزیشن کمزور ناظم آباد ہسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملہ کا ڈراپ سین، بڑا انکشاف نومنتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی کی شاہ غلام قادر سے ملاقات پمز واقعہ : وزیراعظم کا 8 ذمہ داران کو فوری معطل کرکے فوجداری کارروائی کا حکم بھارت میں قید 25 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچ گئے

امریکی سپریم کورٹ کا ٹیرف فیصلہ:  نفاذ کیلئے دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا، امریکی وزیر خزانہ

Web Desk

20 February 2026

واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ اب ٹیرف کے لیے دیگر قوانین کا سہارا لیا جائے گا تاکہ عالمی تجارت میں استحکام قائم رکھا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال کے دوران ٹیرف اسی سطح پر رہیں گے جو موجودہ ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ اب ٹیرف کے لیے سیکشن 232 اور سیکشن 301 استعمال کیے جائیں گے، جنہیں عدالتوں میں کئی مرتبہ چیلنج کیا گیا مگر عدالتوں نے انہیں درست قرار دیا۔

بیسنٹ نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کر دیے ہیں، تاہم ممالک کے لیے ٹیرف کی سطح ایک جیسی رہے گی، صرف نفاذ کا طریقہ بدل جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ٹرمپ نے ٹیرف عائد کرتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا، جس سے عالمی تجارت متاثر ہوئی۔ عدالت کے مطابق قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا قانون اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ جو چاہیں کرسکتے ہیں، اور ممالک کی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہے گی۔