LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثی ملیشیا سعودی تنصیبات پر حملے، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ امریکی سینیٹر کرس مرفی کا ایران کیساتھ سفارتی ڈیل پر توجہ دینے پر زور پاکستان کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے یمنی مسلح افواج نے حوثی ملیشیا کے خلاف حملے شروع کر دیئے ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا یمن کے ساحل کے قریب بحری جہاز کے نزدیک متعدد دھماکوں کی اطلاع ایرانی ایئر لائنز کی امریکی استثنیٰ ملنے کے بعد نجف کیلئے پروازیں بحال ایران نے اپنے سفارتکاروں کو امریکا سے نکالے جانے کا دعویٰ مسترد کر دیا کے پی حکومت کے انسداد دہشتگردی کے طے ڈرافٹ پر دستخط سے انکار پر مذاکرات ناکام ہوئے: شیری رحمان سعودی اتحاد کا یمن کی تسلیم شدہ حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان مکہ دفاعی معاہدے کے 3 رکن ممالک کی کمیٹی کا اجلاس آج ریاض میں ہوگا یوکرین نے روسی قبضے والے شہر اولیشکی میں ڈرونز سے خوراک اور ادویات پہنچا دیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال کشمیری عوام نے مسترد کر دی: طلال چودھری روسی دباؤ سے خوفزدہ ہو کر یوکرین کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: جرمنی شیخ نہیان بن مبارک کی مجلس میں رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کا پیغام نمایاں

خلا میں موجود ’شہر تباہ کرنے والے سیارچوں‘ سے متعلق انتباہ جاری!

Web Desk

19 February 2026

ناسا کے سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ زمین فی الحال ان ہزاروں سیارچوں (Asteroids) کے خلاف دفاعی صلاحیت نہیں رکھتی جو خلا میں تیزی سے گھوم رہے ہیں اور کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ ماہرین نے انہیں ’شہر تباہ کرنے والے‘ خلائی پتھر قرار دیا ہے۔

پوشیدہ خطرہ: 15 ہزار نامعلوم سیارچے
ناسا کے اندازے کے مطابق تقریباً 15 ہزار درمیانے حجم کے سیارچے ایسے ہیں جو زمین کے مدار کے قریب موجود ہیں مگر تاحال سائنس دانوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔

قطر: ان میں سے اکثر کا قطر تقریباً 140 میٹر یا اس سے زیادہ ہے۔

تشویشناک صورتحال: ڈاکٹر نینسی کے مطابق، ہمیں ایسے 50 فیصد سیارچوں کے صحیح مقام اور سمت کا علم ہی نہیں ہے، جو کسی بھی وقت زمین سے ٹکرا سکتے ہیں۔

ڈارٹ (DART) مشن: ایک تجربہ جو کافی نہیں
سن 2022 میں ناسا نے ڈارٹ مشن کے ذریعے ثابت کیا تھا کہ ایک راکٹ کو سیارچے سے ٹکرا کر اس کا رخ موڑنا ممکن ہے۔ تاہم، اس مشن کی سربراہ ڈاکٹر نینسی کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک ‘عملی مظاہرہ’ تھا، کوئی مستقل دفاعی نظام نہیں۔

دفاعی نظام میں رکاوٹیں
جان ہوپکنز یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر نینسی نے چند اہم چیلنجز کی نشاندہی کی ہے:

تیار نظام کی عدم موجودگی: اگر آج کوئی سیارچہ زمین کی طرف بڑھنا شروع کر دے، تو ہمارے پاس ایسا کوئی فعال نظام (Active System) موجود نہیں جسے فوری طور پر لانچ کیا جا سکے۔

سرمایہ کاری کی کمی: ایک مؤثر دفاعی نظام کی تیاری کے لیے جس بڑے پیمانے پر فنڈز اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، وہ فی الحال دستیاب نہیں۔

وسائل کی کمی: خلائی اداروں کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ سیارچوں کی نگرانی کے نظام کو مسلسل ‘ہائی الرٹ’ پر رکھ سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہم ٹیکنالوجی کے لحاظ سے تیار ہو سکتے ہیں، لیکن عالمی سطح پر ترجیحات اور وسائل کی عدم فراہمی زمین کو ایک بڑے ممکنہ حادثے کے خطرے میں ڈال رہی ہے۔