LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

پاکستان کو 10 سال میں 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی: صدرعالمی بینک

Web Desk

6 February 2026

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے کہا ہے کہ پاکستان کو اگلے 10 سال میں تقریباً 3 کروڑ نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی تاکہ بڑھتی ہوئی نوجوان آبادی کو روزگار مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہر سال 25 سے 30 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنا ضروری ہیں، بصورت دیگر بے روزگاری، سماجی بدامنی اور ہجرت میں اضافہ ہوگا۔

اجے بنگا نے بین الاقوامی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ عالمی بینک پاکستان کے ساتھ سالانہ 4 ارب ڈالر کی شراکت داری کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نوکریوں کا 90 فیصد حصہ نجی شعبہ پیدا کرتا ہے، جبکہ زراعت سے بھی تقریباً ایک تہائی روزگار حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بجلی کے شعبے کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نظام میں اصلاحات کی فوری ضرورت ہے کیونکہ بجلی کے نقصانات معیشت اور سرمایہ کاری کو متاثر کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں اجے بنگا نے کہا کہ شمسی توانائی فائدہ مند ہے مگر اس کے نظام میں بہتری ضروری ہے، جبکہ صحت، انفراسٹرکچر، سیاحت اور زراعت میں زیادہ روزگار کے مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ماحولیاتی تحفظ کو ترقیاتی منصوبوں میں لازمی شامل کیا جانا چاہیے۔