LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا ماسکو میں تیسرے روس افریقہ سربراہی اجلاس کا آغاز، پوتن کا کثیر قطبی عالمی نظام پر زور سیاسی جماعتیں عوامی ریلیف اور عملی اقدامات پر توجہ دیں: شرجیل میمن پولٹری سیکٹر میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال میں کمی کیلئے پاکستان اور ڈنمارک کے ادارے میں معاہدہ چار ملکی اجلاس خطے میں امن و سلامتی کے لیے اہم موقع ہے، عباس عراقچی وزیراعظم آزاد کشمیر کا وادی سیماری میں ایکو ٹورازم منصوبے کا دورہ، حکومتی سرپرستی کا اعلان نیتن یاہو فتح کے قریب، میری حمایت نے بہت مدد کی: ٹرمپ کا دعویٰ

نئےکرنسی نوٹوں کا ڈیزائن منظوری کے بعد وزارت خزانہ کو بجھوا دیا ہے: گورنر اسٹیٹ بینک

Web Desk

5 February 2026

اسلام آباد: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ نئے کرنسی نوٹوں کا ڈیزائن اسٹیٹ بینک بورڈ کی منظوری کے بعد وزارتِ خزانہ کو بھجوا دیا گیا ہے، حکومت کی حتمی منظوری کے بعد نئے کرنسی نوٹ جاری کیے جائیں گے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ 5 ہزار روپے کے نوٹ کو ختم کرنے کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔

اجلاس کے دوران سینیٹر عبدالقادر نے سپر ٹیکس پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عوام تین سے چار سال کا سپر ٹیکس ایک ساتھ کیسے ادا کریں گے، اس طرزِ عمل سے لوگ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کا ہراساں کرنے والا رویہ درست نہیں اور سپر ٹیکس کی وصولی فوری کے بجائے دو سے تین سال میں کی جانی چاہیے۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آئینی عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ سپر ٹیکس پارلیمان کا اختیار ہے، تاہم اس سے عوام اور کاروباری طبقے پر دباؤ بڑھا ہے۔ ایک ہی طبقے پر بار بار ٹیکس لگا کر ریونیو بڑھانا کوئی پائیدار ریونیو ماڈل نہیں۔

اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ اگر ضرورت پڑی تو بعض کیسز میں سپر ٹیکس کی اقساط کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپر ٹیکس کی مجموعی وصولی 217 ارب روپے بنتی ہے جبکہ ٹیکس دہندگان کو ٹیلی فون اور پیغامات کے ذریعے آگاہی دینے سے ٹیکس نیٹ میں 10 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

وزیر خزانہ نے اجلاس میں بتایا کہ انہیں بھی ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس سے متعلق پیغام موصول ہوا ہے۔