LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پولیس اور عدالتی نظام ناقص ، پورے سسٹم کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا: حافظ نعیم الرحمان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری علاقائی امن و استحکام کیلئے ضروری ہے: اسحاق ڈار ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی، رائفل تھامے تصویر کیساتھ ’نو مور نائس گائے‘ کا پیغام امریکا ایران تنازع کا واحد قابلِ عمل حل مذاکرات اور سفارت کاری ہے: چین آبنائے ہرمز سے کسی جہاز کو بغیر اجازت گزرنے کی اجازت نہیں: ایران امریکا کو سمجھنا ہوگا کہ دباؤ سے سفارتکاری بحال نہیں ہوسکتی: عباس عراقچی ایل این جی کی قیمتوں میں بڑی کمی، اوگرا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا روسی اخبارات میں سی آئی اے چیف کے دورہ ماسکو، برطانیہ کو روسی انتباہ اور سوئس پابندیوں کے مستقبل پر بحث پنجاب اسمبلی میں بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور پاکستان کے پورٹ سسٹم میں اصلاحات، 85 اقدامات پر عملدرآمد پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن میں مالی گوشواروں کی تفصیلات جمع کرادیں نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے عہدے کا حلف اٹھا لیا این ای ڈی یونیورسٹی اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایران نے امریکی پابندیوں کو ریاستی دہشتگردی قرار دے دیا ہاکی ورلڈ کپ: پاکستان نے جنوبی افریقہ کو ہرا کر 11ویں پوزیشن حاصل کرلی

پاکستان نے تاریخ میں پہلی بار قرض میچورٹی سے قبل واپس کرنا شروع کر دیا،مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد

Web Desk

29 January 2026

پاکستان کی معاشی تاریخ میں پہلی بار حکومت نے ملکی قرضے میچورٹی سے قبل واپس کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق گزشتہ 14 ماہ کے دوران حکومت نے مجموعی طور پر 3 ہزار 650 ارب روپے کا ملکی قرضہ قبل از وقت ادا کیا۔

خرم شہزاد نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آج مزید 300 ارب روپے کی تازہ قبل از وقت ادائیگی کر دی ہے۔ ان کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے سات ماہ میں 2 ہزار 150 ارب روپے سے زائد قرضہ ریٹائر کیا گیا، جو مالی سال 2025 کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔

مشیر وزیر خزانہ کے مطابق اسٹیٹ بینک کا قرضہ تقریباً 44 فیصد کم ہو کر 5 ہزار 500 ارب سے 3 ہزار ارب روپے رہ گیا ہے، جبکہ 2029 میں میچور ہونے والا قرضہ بھی کئی سال پہلے ادا کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قبل از وقت ادائیگیوں میں 65 فیصد اسٹیٹ بینک، 30 فیصد ٹی بلز اور 5 فیصد پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز شامل ہیں۔ مجموعی سرکاری قرضہ 80.5 ٹریلین روپے سے کم ہو کر 80 ٹریلین کے قریب آ گیا ہے جبکہ قرضہ جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد پر آ چکا ہے۔

خرم شہزاد کے مطابق مالی نظم و ضبط کے باعث ٹیکس دہندگان کو 850 ارب روپے کی بچت ہوئی جبکہ مالی سال 2026 میں مزید 800 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جس سے کم رسک، کم لاگت اور ترقی کیلئے زیادہ مالی گنجائش پیدا ہوگی۔