LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
خاران کے مغوی ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو بازیاب امریکہ اور جنوبی کوریا کے معاہدے میں مزید بہتری آگئی: ٹرمپ برطانیہ میں فضائی ٹریفک کنٹرول کے نظام میں خرابی، 2 ہزار سے زائد پروازیں متاثر رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں تجارتی خسارہ 10.79 ارب ڈالر تک پہنچ گیا حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے پہلے روز کے بعد اپوزیشن قیادت کی اہم بیٹھک سٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ، ہنڈرڈ انڈیکس منفی زون میں بند ہوا روپے کی قدر میں بہتری، انٹربینک میں ڈالر مزید سستا ہوگیا پُرتشدد انتشار، 9 مئی جیسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کیساتھ بلاامتیاز نمٹا جائیگا: کور کمانڈرز کانفرنس اقوام متحدہ میں وزیراعظم نے فلسطین سمیت اہم امور پر مؤقف مدلل انداز میں پیش کیا: اسحاق ڈار وزیر خزانہ سے ورلڈ بینک کے وفد کی ملاقات، معاشی اصلاحات کا جائزہ لیا صومالی قزاقوں سے چار پاکستانی چھڑوا لیے، کل وطن پہنچیں گے: اسحاق ڈار الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 14 دسمبر کو کرانے کی تجویز دیدی وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور عالمی بینک کے وفد کی ملاقات، حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان ملاقات، تمام بات چیت راز میں رکھنے پر زور جماعت اسلامی نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا اعلان کردیا

لندن ہیتھرو ایئرپورٹ نے بھی 100 ملی لیٹر مائع سکیورٹی پابندی ختم کر دی

Web Desk

24 January 2026

عالمی فضائی سفر کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دبئی کے بعد اب لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ نے بھی مسافروں کے لیے مائع اشیاء پر عائد 100 ملی لیٹر کی سکیورٹی پابندی ختم کر دی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ایک نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہیتھرو ایئرپورٹ پر جدید تھری ڈی اسکینرز نصب کر دیے گئے ہیں، جن کی مدد سے اب مسافروں کو ہاتھ کے سامان میں موجود مائع اشیاء علیحدہ نکالنے یا محدود مقدار میں رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

نئے سکیورٹی نظام کے باعث سکیورٹی چیک کا عمل تیز اور مؤثر ہو جائے گا، جس سے مسافروں کو نمایاں سہولت حاصل ہوگی۔ اس سے قبل دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی اسی نوعیت کی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام مستقبل میں دیگر بڑے عالمی ایئرپورٹس کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔ پاکستانی مسافروں کے لیے یہ خبر خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات پاکستانیوں کے اہم سفری مراکز سمجھے جاتے ہیں۔