LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ڈیڈ لاک برقرار، حکومت اور اپوزیشن میں جاری مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا آج سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان حکومت اپوزیشن مذاکرات کا نتیجہ جلد سامنے آئے گا: شوکت یوسف زئی وائٹ سی ایگل راستہ بھٹک کر سندھ آپہنچا، نایاب پرندے کی آنکھیں سی کر پر کاٹ دیے گئے حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان مذاکرات ناکام، پی ٹی آئی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلان مذاکرات شروع ہونا بڑی کامیابی، سلسلہ ٹوٹنا نہیں چاہیے: فواد چودھری ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ سے سبق سیکھ کر شرائط قبول کریں: ایرانی پاسداران انقلاب اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایک ہفتے میں دو بڑی کارروائیاں، 47 کلوگرام مشتبہ منشیات برآمد اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی میں 15 اکتوبر تک توسیع گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو کراچی کے لیے اضافی پانی کی فراہمی جلد شروع ہوجائے گی، مراد علی شاہ حکومتی وفد نے پی ٹی آئی پر دہشتگردی کے معاملے پر عدم تعاون کا الزام عائد کردیا ایک صوبے کو دہشت گردی سے جوڑنا ناعاقبت اندیشی ہے: علامہ ناصر عباس راجہ وزیراعظم شہباز شریف سے محسن نقوی کی ملاقات، سکیورٹی صورِتحال پر بات چیت حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات بے نتیجہ ختم، ڈیڈ لاک برقرار

سائنسدانوں کا فالج کے مریضوں کو بولنے کے قابل بنانے والا اے آئی کالر تیار

Web Desk

22 January 2026

کیمبرج: کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک جدید کالر تیار کیا ہے جو مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے فالج کے مریضوں کو دوبارہ اپنی آواز میں بولنے کے قابل بناتا ہے۔

اس اے آئی ڈیوائس، جسے ری وائس (ReVoice) کا نام دیا گیا ہے، پہننے والے کے سپیچ سگنلز اور جذباتی اشاروں کو ڈی کوڈ کر کے ٹوٹے اور غیر واضح الفاظ کو دوبارہ قابلِ فہم آواز میں تبدیل کرتی ہے۔ اس طرح مریض قدرتی انداز میں گفتگو کر سکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیمبرج کے پروفیسر لوئیگی اوچی پنٹی کے مطابق موجودہ اسسٹیو اسپیچ ٹیکنالوجیز یا تو غیر مؤثر ہیں یا ان کے لیے خطرناک دماغی امپلانٹس کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ری وائس کالر ایک محفوظ اور آسان حل پیش کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اکثر مریض وقت کے ساتھ اپنی زیادہ تر یا مکمل بولنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کر لیتے ہیں، اس لیے پیچیدہ دماغی امپلانٹس کی ضرورت نہیں رہتی۔